حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 105 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 105

90 شفا دے دی مگر یہ سبق مجھے آج تک یاد ہے۔ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم کون ہیں۔بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک نسبت ہے۔اور ہماری کمزوریاں ان کے اچھے نام کو بد نام کرنے کا موجب ہو سکتی ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اپنے طریق عمل کو ہمیشہ اعتراض سے بالا رکھنے کی کوشش کرو گے۔ہمیشہ یاد رہے کہ مواقع فتن سے ہی نہ بچو بلکہ بدنامی کے مواقع سے بھی بچو۔عورتوں کے ساتھ الگ بیٹھنا، الگ سیر کو جانا وہاں کے حالات میں ایک معمولی اور طبعی بات سمجھا جاتا ہے۔مگر تم لوگوں کو اس سے پر ہیز چاہئے وہاں عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا ایک بہت بڑی پریشانی ہے مگر اس سے بڑھ کر یہ پریشانی ہے کہ ہم رسول کریم میں اللہ کے حکم کو توڑ دیں۔(۸) غذا میں پر ہیز غذا میں پرہیز رہے۔وہاں جھٹکے کا گوشت ہوتا ہے۔جب تک کو شرمیٹ جو یہود کا ذبیحہ ہے۔اور جائز ہے۔میسر نہ ہو خود ذبح کر کے جانور دو اور اسے کھاؤ دوسرا گوشت کسی صورت میں مت چکھو۔مچھلی، انڈا سبزی وغیرہ یہ چیزیں غذا کے طور پر اچھی ہیں۔گوشت کی ضرورت ان کے بعد اول تو ہے نہیں۔ورنہ ہفتہ میں دو تین بار مرغ ذبح کر کے پکوا لیا کرو۔بہر حال یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے۔کہ حلال غذا سے حلال خون پیدا ہوتا ہے۔اگر غذا ئیں حرام ہوں گی۔تو خون بھی خراب ہو گا۔اور خیالات بھی گندے پیدا ہوں گے۔اور دل پر زنگ لگ کر کہیں کے کہیں نکل جاؤ گے۔خدا تعالیٰ نے جو سامان پیدا کئے ہیں۔ان سے الگ ہو کر کامیابی ناممکن ہے۔