حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 102 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 102

87 (۶) عشق الهی پیدا کرو خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق دلیل اور فلسفے پر مبنی نہ ہونا چاہئے۔دلیل کے معنی تو یہ ہیں۔کہ وہ راستہ دکھاتی ہے جب تک ہم نے راستہ نہیں دیکھا۔تب تک تو دلیل ہمارے کام آ سکتی ہے۔لیکن جب ہم نے راستہ دیکھ لیا۔پھر دلیل ہمارے کسی کام کی نہیں۔پھر صرف عشق اور صرف عشق اور صرف عشق ہمارے کام آسکتا ہے۔اور جب عشق پیدا ہو جائے۔تو پھر اپنے محبوب سے جدا رہنا بالکل ناممکن ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرو۔کہ اس سے زیادہ محبت کے قابل کوئی وجود نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا تعلق دلیل اور ثبوت تک رہے گا۔تو تم کو تمہاری زندگی سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔فائدہ اسی وقت ہو گا۔جبکہ عشق الہی دل میں پیدا ہو۔اور سب جسم پر بھی اس کا اثر ہو۔کسی شاعر کا قول ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہانا بھی نازل ہوا ہے۔کہ عشق الہی دے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی" پس اگر انسان " خدا تعالیٰ کا ولی بننا چاہے تو چاہئے کہ عشق الہی پیدا کرے۔اور اس کے آثار اس کے جسم پر بھی ظاہر ہوں۔ورنہ دل کے عشق کو کوئی کیا جان سکتا ہے۔بہت لوگ اس دھو کہ میں مبتلا رہتے ہیں۔کہ ان کے ظاہر پر تو کوئی اثر عشق الہی کا ہوتا نہیں۔مگر وہ خیال کر لیتے ہیں کہ عشق الہی ان کے دل میں پیدا ہے۔آگ بغیر دھوئیں کے نہیں ہو سکتی۔دل کی کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی۔جس کے دل میں عشق الہی ہوتا ہے۔اس کی ہر حرکت اور اس کے ہر قول سے عشق الہی کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے۔بکری کے گوشت کے کباب پکتے ہیں۔تو اس کی بو ذ کی حس والوں کو میل میل پر سے آ جاتی ہے۔پھر کس طرح ممکن ہے۔کہ ایک انسان کا دل خدائے ذوالجلال کے عشق کی آگ پر پک رہا ہو اور اس کی