حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 103
88 خوشبو دنیا کو مہکا نہ دے۔پس اگر عشق کے آثار نہیں پیدا۔تو عشق کے سمجھنے میں دھوکا لگا ہے۔اور ایسے شخص کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔جب عشق ہو گا۔تو محبوب کے قرب کی بھی تمنا ہو گی یہ قرب کس طرح ملتا ہے۔اس کی تفصیل اس جگہ بیان نہیں ہو سکتی۔اس کے کئی رنگ ہیں۔نشان سے معجزہ سے الہام سے وحی سے کشف سے، اور ہزاروں رنگ سے وہ بندہ کو حاصل ہوتا ہے۔اور جو بندہ اس کے بغیر تشفی پا جاتا ہے۔وہ عاشق نہیں۔بوالهوس نہ بنو پس جب تک اللہ تعالیٰ بھی اپنی محبت کا اظہار نہ کرے تسلی نہ پاؤ اور اپنے دل کو اور جلائے جاؤ۔ہاں ابو الہوس نہ بنو۔کہ بعض لوگ اپنے آقا کو بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں یعنی انہیں خدا تعالیٰ کے قرب کی اس لئے خواہش ہوتی ہے تا لوگوں میں ان کی عزت ہو تا وہ لوگوں سے کہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے بولتا ہے۔ان کے لئے نشان دکھاتا ہے اور وہ ولی اللہ ہیں۔وہ اس خواہش کا نام خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی تڑپ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس طرح دین پھیلا سکیں گے۔لیکن وہ خواہ کچھ کہیں یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہو سکتی۔کہ وہ اپنے آقا کو ادنیٰ خواہشات کے حصول کے لئے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔الحياذُ باللهِ پس ایسی خواہش کبھی دل میں پیدا نہ ہو۔کوئی سچا عاشق یہ خیال نہیں کر سکتا۔کہ اس کا محبوب اسے اس لئے ملے کہ وہ لوگوں کو دکھا سکے۔عشق جب پیدا ہوتا ہے۔تو باقی سب احساس دبا دیتا ہے۔دنیا و ما فيها بھلا دیتا ہے۔پس ان لوگوں والی غلطی کبھی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ قدوس ہے انسان کی جب اس پر نظر پڑتی ہے۔تو وہ باقی سب اشیاء کو