حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 73
73 کرنا۔خلاصہ خطبہ نکاح حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ۲ جولائی ۱۹۳۴ء کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا نکاح صاحبزادی منصورہ بیگم صاحبہ بنت حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا نکاح اپنی صاحبزادی ناصرہ بیگم کے ساتھ پڑھتے ہوئے جو خطبہ نکاح ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانی پیدائش کے متعلق فرمایا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یعنی میں نے جن و انس کو صرف ایک مقصد کے لئے پیدا کیا ہے جو یہ ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں۔صفات الہیہ کو اپنے اندر داخل کر لیں اور میرے مظہر کامل ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔اس مقصد کے حصول کے لئے پہلا انسان جسے ذمہ دار قرار دیا گیا قرآن مجید نے اسے آدم کے نام سے موسوم کیا۔۔۔۔وہ لوگ جن کی ہستیاں اور جن کے آرام و تعیش خدا تعالیٰ کے وجود کے ظاہر ہونے سے خطرے میں پڑتے ہیں انہوں نے آدم کا مقابلہ کیا لیکن وہ مخالف اپنی کوششوں میں ناکام رہے۔۔۔۔آدم کا زمانہ گزرا تو نوح کا زمانہ آیا اس وقت بھی دنیا نے کوشش کی کہ وہ خدا تعالیٰ کے نور کو کسی طرح چھپا دے لیکن دنیا کامیاب نہ ہوئی۔۔۔۔۔پھر شیطان نے اپنا سر اٹھایا تب خدا تعالیٰ نے۔۔۔محمد مصطفی میں اللہ کی ذات مبارکہ کو مبعوث فرمایا۔آپ کو دشمنان دین کا مقابلہ جس سختی کے ساتھ کرنا پڑا اور جن تکالیف میں سے آپ کو گزرنا پڑا ان سے تمام مسلمان واقف ہیں۔۔۔۔جس طرح آپ کی لائی ہوئی تعلیم سب تعلیموں سے اکمل تھی ویسے ہی آپ کے بعد ایک ایسا فتنہ ظاہر ہونے والا تھا جو دنیا کے تمام فتنوں سے بڑا تھا