حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 71
71 "النصرة" کو بھی بنوا کر دی۔حضرت المصلح موعود نے بیت النصرت کا سنگ بنیاد ۲۳ فروری ۱۹۳۳ء کو رکھا۔آپ کی شادی سے قبل یہ عمارت مکمل ہو گئی جس میں شادی کے بعد آپ نے رہائش اختیار فرمائی اور ہجرت پاکستان تک وہیں مقیم رہے۔شادی اور اولاد انگلستان روانگی سے قبل آپ کے نکاح اور شادی کی مبارک تقریب عمل میں آئی آپ کا نکاح حضرت سیده منصوره بیگم صاحبہ بنت حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ و حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ان کے ساتھ ہوا۔یہ رشتہ حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم نے برسوں پہلے ہی سے تلاش کر لیا ہوا تھا۔۲ جولائی ۱۹۳۴ء کو آپ کا نکاح ہوا 9 اور ۵۔اگست ۱۹۳۴ء کو رخصتانہ عمل میں آیا۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ ۲۷ ستمبر ۱۹۱۱ء مطابق ۳ شوال ۱۳۲۹ھ بمقام ریاست مالیر کوٹلہ پیدا ہوئیں۔آپ کی والدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں جنہوں نے ان کی اسی طرح تربیت فرمائی جس طرح ان کی والدہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ نے تربیت فرمائی تھی۔آپ کے لئے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کا انتخاب عین الہی منشاء کے مطابق تھا جیسا کہ آپ نے خود فرمایا۔” ہماری شادی کے متعلق حضرت ام المومنین کو بہت سی بشارتیں ملی تھیں۔اس کے نتیجہ میں یہ شادی ہوئی تھی۔یہ رشتہ آپ نے کروایا تھا الی بشارت کے مطابق۔اور جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتخاب اللہ تعالیٰ نے بعض اغراض کے مدنظر خود کیا اور ایک ایسی ساتھی میرے لئے عطا کی جو میری زندگی کے مختلف ادوار میں میرے بوجھ کو بانٹنے کی اہمیت بھی رکھتی تھی۔50۔آپ کا نکاح حضرت المصلح الموعود نے پڑھا اور رخصتانہ کے وقت ٹرین پر آپ کی