حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 63
63 کو اس تنظیم میں شامل کرتا ہے۔اگر میرا قیاس صحیح ہے تو بسم اللہ کیجئے چنانچہ حضور نے کچھ تفاصیل ارشاد فرمائیں۔حضور کا قیام لاہور کی ایمپریس روڈ پر ایک کرائے کی عمارت میں واقع احمد یہ ہوسٹل میں تھا۔ایک ہفتہ بعد حضور نے ہم چند احمدی طلباء کو احمد یہ ہوسٹل میں اکٹھا کیا اور اپنی سکیم رسمی طور پر ارشاد فرما دی۔قرار پایا کہ اس تنظیم کا نام دو عشرہ کاملہ" ہو گا اور لاہور کے مختلف کالجوں کے دس طلباء حضور سمیت اس کے ممبر ہوں گے۔چنانچہ اسی روز حضور کو متفقہ طور پر عشرہ کاملہ کا صدر منتخب کیا گیا۔اپنے علاوہ حضور نے جن طالب علموں کو اس کا رکن نامزد کیا ان میں سے جو نام مجھے اب تک یاد ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب ابن حضرت مرزا عزیز احمد صاحب صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (ایم ایم احمد ) چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ میاں محمد عمر صاحب کچھ عرصہ ہوا ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہو کر اب ساہیوال میں آباد ہیں) اور خاکسار عبدالرشید تبسم عشرہ کاملہ کا طریق کار حضور نے یہ تجویز فرمایا کہ نگارشات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں سے ہر مہینے حضور ایک اقتباس منتخب فرمائیں گے جو آرٹ پیپر پر شائع کر کے لاہور کے تمام کالجوں کے طلباء میں تقسیم کیا جایا کرے گا۔چنانچہ عشرہ کاملہ کے ہر ممبر کے سپرد ایک یا دو کالج کر دیئے گئے۔میرے ذمے لاہور کا لاء کالج ٹھہرا۔ایک روزانہ اخبار کا ایڈیٹر ہونے کی وجہ سے میرا تعلق اخبار سے تھا اس لئے ہر مہینے حضور اپنا منتخب کردہ اقتباس میرے سپرد کر دیتے جس کی کتابت کروا کر میں پانچ ہزار پمفلٹ کی صورت میں چھپواتا اور حضور کی خدمت میں