حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 58 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 58

58 جاتے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں۔اسلامی پردہ سے ہرگز عورتوں کے حقوق تلف نہیں ہوتے گو رواجی پردہ میں یہ نقص ہے اور اگر یہ بات ٹھیک ہوتی تو مسلمان پہلے زمانہ میں اس حد تک ترقی نہ کر سکتے جبکہ ترقی کا راز ایک حد تک عورتوں پر موقوف ہے۔(۱) اسلامی پردہ (۲) رواجی پردہ اور اس کے نقائص (۳) کیا اسلامی پردہ سے عورتیں قیدیوں کی طرح ہو جاتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔(۴) پرده ترک کر دینے کی رو ترکوں کے پردہ چھوڑ دینے پر اظہار افسوس، مسلمانوں کی ترقی کا راز صرف اور صرف اسلامی احکام کی پابندی پر ہے جن میں سے ایک پر وہ ہے۔۱۹۲۷ء میں ہی آپ اپنے ایک تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔تجربہ : سفر میں غذا کا خاص خیال رکھنا چاہئے نیز گاڑی وغیرہ میں حتی المقدور آرام کا انتظام ہونا چاہئے ورنہ تفریح کا سب اثر زائل ہو جاتا ہے اور بیمار ہونے کا خطرہ الگ۔مرزا ناصر احمد آپ نے طالب علمی کے زمانہ میں ایک نظم لکھی جو آپ کی ڈائری میں ۱۴۔مارچ ۱۹۲۸ء کی تاریخ میں درج ہے۔دنیا کے کام بے شک کرتا رہوں گا میں بھی لیکن میں جان و دل سے اس یار کا رہوں گا برقی خیال دل میں سر میں رہے گا سودا ہوں گا اس یار کو میں بھولوں اتنا نہ محو چھکوں گا میں فلک پر جیسے بھولوں کو رہ لاوے ایسی میں ہو کوئی تارا شمع ہوں گا سورج کی روشنی بھی مدہم ہو جس کے آگے