حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 703
653 کبھی نفرت پیدا نہیں ہو گی۔ان کی مخالفت پر ہمیں کبھی غصہ نہیں آتا کیونکہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسِكَ أَلَّا يَكُونُو امُومِنِينَ (الشعراء :(۴) کی رو سے انسانیت کے محسن اعظم حضرت رسول اکرم میم کے اس اسوہ حسنہ کی پیروی میں ہماری زندگیوں میں بھی "بجع" کی حالت کار فرما ہونی چاہئے۔ہماری تعلیم کا تقاضا یہی ہے۔ہماری روایات بھی یہی ہیں۔بعض ایسے حضرات جنہوں نے ساری عمر احمدیت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر جب وہ زندگی کی آخری گھڑیوں میں متروک و مہجور اور علاج تک کے محتاج تھے ہم نے ان کی مقدور بھر مدد کی۔یہ دور ہی کچھ ایسا ہے لیکن بیٹا باپ کو چھوڑ سکتا ہے یا باپ بیٹے کو چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک احمدی کسی انسان کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ وہ دنیا میں محبت و اخوت اور ہمدردی و غمخواری کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔یہ اس کا فرض ہے جسے اس کو نبھانا چاہئے۔انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محبت و پیار کا یہ پیغام نہ پہلے کبھی ناکام ہوا ہے اور نہ آئندہ انشاء اللہ ناکام ہو گا ۵۳ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث” نے جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا:۔” دنیا تیوریاں چڑھا کے اور سرخ آنکھیں کر کے تمہاری طرف دیکھ رہی ہے۔تم مسکراتے چہروں سے دنیا کو دیکھو " ۵۴ حضور نے فرمایا:۔" سارے غصے دل سے نکال ڈالو اور ساری تلخیاں بھول جاؤ۔صرف اپنا مقصد سامنے رکھو کہ ہم نے محبت اور پیار سے دنیا کے دل جیتے ہیں " ۵۵ اسی طرح فرمایا :۔" ہمیشہ یاد رکھو ایک احمدی کسی سے دشمنی نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے خدا نے اسے پیار کرنے کے لئے اور خدمت کرنے