حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 702 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 702

652 فرمایا :- فرمایا :۔عبودیت کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا جب تک انسان اس حقیقت پر نہ قائم ہو جائے کہ میں لاشئے محض ہوں اور لاشئے محض ہونے کے باوجود اس کو کام کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے غرض اپنی ذلت اور نیستی کے ساتھ ہی اس کو یہ یقین ہو کہ اللہ تعالی توفیق دے گا اور اللہ تعالی توفیق دیتا ہے۔وہ تائید کرے گا اور اس کی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے۔اور جب اس کی توفیق اور تائید و نصرت حاصل ہو جائے تو وہ وجود جو لا شئے محض ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے ایسے کاموں کی توفیق پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں اللہ چہروں پر مسکراہٹ پیدا کرنے کی تحریک " حضرت نبی اکرم صلی اللہ کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ آپ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔آپ کو دیکھنے والا ہر شخص آپ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت کے آثار مشاہدہ کیا۔کرتا تھا گویا مسکرانا سنت نبوی ہے۔اس واسطے میں نے پہلے بھی متعدد بار کہا ہے کہ مجھے بھی اور مجھ سے پہلوں کو بھی بڑے مصائب اور پریشانیوں میں سے گزرنا پڑتا رہا ہے مگر ہماری مسکراہٹ کوئی چھین نہیں سکا۔۔۔۔لوگ جانتے بوجھتے یا نا سمجھی کی وجہ سے اس جماعت کو دکھ پہنچاتے ہیں جس پر اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی ذمہ داری ہے مگر یہ تمام دکھ اور تکلیفیں ہماری مسکراہٹوں کو ہم سے نہیں چھین سکے اس لئے کہ ہم تو حضرت محمد مصطفیٰ می کے غلام ہیں اور آپ کے اسوہ حسنہ میں اپنی زندگی اور زندگی کے حسن کو دیکھتے اور پاتے ہیں ۵۲ ” ہمارے مخالفین چاہیں جتنا زور لگالیں ہمارے دل میں ان کے لئے