حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 53
53 یاد ہے کہ جس وقت جلسہ گاہ بڑی بنائی جا چکی تھی۔بس آخری شہتیری رکھی جا رہی تھی تو ہمارے کانوں میں صبح کی اذان کے پہلے " اللہ اکبر" کی آواز آئی وہ آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے)۔صبح کی اذان کے وقت وہ کام ختم ہوا جب حضرت مصلح موعود تشریف لائے تو آپ جلسہ گاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔سارے لوگ جلسہ گاہ میں ee سما گئے اور جتنی ضرورت تھی اس کے مطابق جلسہ گاہ بڑھ گئی۔"س آپ کی بہن حضرت سیدہ ناصرہ بیگم اپنے ایک مضمون بعنوان ” میرے پیارے بھائی جان“ جو مصباح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نمبر ( دسمبر ۱۹۸۲ء جنوری ۱۹۸۳ء) میں شائع ہوا آپ کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔" د بچپن سے ہی جماعتی کاموں میں دلچسپی لیتے اور ہر موقع پر جب بھی سلسلہ کے کسی کام کے لئے ضرورت ہوتی خدمت میں لگ جاتے۔خدا تعالٰی نے ابتداء سے ہی دین کی خدمت کا شوق اور بے لاگ جذبہ دل میں پیدا کیا تھا۔وہ سلسلہ اور اسلام کے جاں نثار ، بہادر ، جری سپاہی سهام تھے۔۳۴ قائد بوائے سکاؤٹ موومنٹ ۱۹۲۷ء میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد مولوی فاضل کے طالب علم تھے چوہدری عبد الواحد احمد صاحب 4 سکاؤٹ ماسٹر نے حضرت مصلح موعود کی اجازت سے قادیان میں بوائے سکاؤٹ موومنٹ BOY SCOUT MOVEMENT جاری کی جس میں مدرسہ احمدیہ کے تمام طلباء کی شرکت لازمی تھی۔ماسٹر چوہدری عبدالواحد احمد صاحب نے آپ کو پوائے سکاؤٹ موومنٹ کا ٹروپ لیڈر TROOP LEADER تجویز کیا جس کی حضرت مصلح موعود نے منظوری دے دی۔آپ کے ماتحت تین چار نائب ٹروپ لیڈر تھے۔مدرسہ احمدیہ کے تمام طلباء کو تین چار حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک حصہ پر نائب روپ لیڈر مقرر کر دیا تھا اور