حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 694
644 محتاجوں کو کھانا کھلاؤ اور ہم نے اس تاکیدی ارشاد پر عمل کرنا ہے۔آج میں ہر ایک کو جو ہماری کسی جماعت کا عہدیدار ہے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذمہ دار ہے اس بات کا کہ اس کے علاقہ میں کوئی احمدی بھوکا نہیں سوئے گا۔دیکھو میں یہ کہہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔اگر کسی وجہ سے آپ کا محلہ یا جماعت اس محتاج کی مدد کرنے کے قابل نہ ہو تو آپ کا فرض ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق دے گا کہ میں ایسے ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کر دوں۔انشاء اللہ تعالیٰ۔۔۔" ee روزنامہ امروز لاہور نے حضور کا حسب ذیل پریس انٹرویو شائع کیا۔ربوه ۲۹ جنوری (۱۹۶۷ء) جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ کسی قومی بحران کی صورت میں ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار کرنا دانش مندی کے منافی ہے۔مرزا ناصر احمد نے خوراک کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ نکتہ چینی بحران کو حل کرنے میں مدد دینے کی بجائے الجھاتی ہے۔کسی بھی قومی بحران کی صورت میں تمام شہریوں کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور ملزم ٹھہرانے کی بجائے بحران کو دور کرنے کی مثبت تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی کو چونکہ سرور کائنات می ایم کی حیات طیبہ کو مسلمانوں کے لئے مشعل راہ بنانا تھا اس لئے ان کی زندگی میں وہ تمام واقعات ملتے ہیں جو مسلمانوں کو بعد میں پیش آسکتے تھے۔ان میں قحط کا واقعہ بھی موجود ہے۔مکہ میں قحط پڑا تو رسول اکرم میں نے ایثار پر زور دیا جس کے نتیجے میں کفار کو کھانا میسر آنے لگا۔نبی اکرم لم کے فرمودات کی روشنی میں مسلمان آج بھی رات کو یہ اطمینان