حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 688
638 د بعض خواتین ایسی بھی ہیں جو یہاں کے ماحول میں پردہ کی کما حقہ پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ اس ملک میں رہ کر وہ پردہ نہیں کر سکتیں تو پھر انہیں انہی نتائج سے دور چار ہونا پڑے گا جن سے یہاں کی عورتیں دو چار ہیں۔اگر انہوں نے بے پردگی پر اصرار کیا تو پھر وہ وقت بھی آئے گا کہ انہیں یہاں کے طریق کے مطابق شادی سے پہلے بچے جننے پڑیں گے۔انہیں نظر آنا چاہئے کہ یہاں کے تمدن کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک آگ دہک رہی ہے۔یہ لوگ پریشان ہیں کہ ہم کدھر جا رہے ہیں اور ہمارا کیا انجام ہونے والا ہے۔یہ لوگ بے اطمینانی کا شکار ہیں۔سکون اور اطمینان ان کے لئے مفقود ہو چکا ہے۔ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کا بھی یہی حشر ہو گا۔۔۔۔۔۔میں ایسی خواتین سے جو یہاں پردہ کو ضروری نہیں سمجھتیں پوچھتا ہوں کہ انہوں نے پردہ کو ترک کر کے اسلام کی کیا خدمت کی ؟ کچھ بھی نہیں! آج بعض کہتی ہیں کہ ہمیں یہاں پردہ نہ کرنے کی اجازت دی جائے۔پھر کہیں گی ننگ دھڑنگ سمندر میں نہانے اور ریت پر لیٹنے کی اجازت دی جائے۔پھر کہیں گی شادی سے پہلے بچے جننے کی اجازت دی جائے۔میں کہوں گا پھر تمہیں دوزخ میں جانے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔- کسی احمدی خاتون کو بے پردہ دیکھ کر سخت شرم آتی ہے۔امریکہ کی احمدی خواتین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہ احمدی ہونے سے پہلے پردہ نہیں کرتی تھیں لیکن احمدی ہونے کے بعد انہوں نے پردہ شروع کیا۔۱۹۷۶ ء میں جب میں ڈیٹن گیا تو وہاں کے ہوائی اڈہ پر استقبال کرنے والوں میں برقعہ پوش احمدی خواتین کی ایک لمبنی قطار دیکھی۔وہ اگر امریکہ میں رہ کر پردہ کر سکتی ہیں تو پاکستان کی ایک احمدی خاتون