حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 671
621 بجائے اور بھی زیادہ کریں۔میں آج ایک نئی دعا بھی ان دعاؤں میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔دوست اس دعا کو بھی کثرت کے ساتھ پڑھیں وہ یہ ہے رَبَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكفرين ال (سورۃ بقره آیت ۲۵۱) (اے ہمارے رب! ہم پر قوت برداشت نازل کر اور میدان جنگ میں ہمارے قدم جمائے رکھ) اور (ان) کافروں کے خلاف ہماری مدد کر) لا اله الا اللہ کا ورد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے دور خلافت میں چودھویں صدی ہجری اپنے اختتام کو پہنچی اور پندرھویں صدی ہجری کا آغاز ہوا۔چودھویں صدی کو الوداع کہنے اور نئی صدی کا استقبال کرنے کے لئے حضور نے جماعت کو افضل الذكر لا إِلهَ إِلَّا الله کا کثرت کے ساتھ ورد کرنے کی تحریک فرمائی۔حضور نے سالانہ اجتماع انصار اللہ مرکزیہ ۱۹۸۰ء کے موقع پر فرمایا:۔و, چند دنوں تک چودھویں صدی ختم ہو رہی ہے۔اس صدی کو خدائے واحد ویگانہ کی توحید کے ورد کے ساتھ الوداع کہیں لا الهَ اِلا اللہ کا ورد کثرت سے پڑھیں کہ کائنات کی فضا اس ترانہ کے ساتھ معمور ہو جائے۔دن رات اٹھتے بیٹھتے بالکل خاموشی کے ساتھ اونچی آواز میں بھی نہیں (حضور نے دھیمی آواز میں لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ متعدد بار دہرا کر دکھایا اور پھر فرمایا) الله لا إله إلا الله لا إله إلا الله اٹھتے بیٹھے ، چلتے پھرتے پڑھتے - رہیں۔اس ندا کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہیں اور اسی ندا کے ساتھ ہم اگلی صدی کا استقبال کریں گے۔انشاء اللہ تعالی ۲