حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 666
616 فرمایا :۔مال دیتا ہے تو وہ مال جو اس کی عطا ہے بشاشت سے اس کی طرف لوٹا دینا اور اس کے بدلہ میں ثواب اور اس کی رضا حاصل کرنا اس سے زیادہ اچھا سودا دنیا میں اور کوئی نہیں۔پس اے احمدیت کے عزیز بچو! اٹھو اور اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑ جاؤ اور ان سے کہو کہ ہمیں مفت میں ثواب مل رہا ہے آپ ہمیں اس سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔آپ ایک اٹھنی ماہوار ہمیں دیں کہ ہم اس فوج میں شامل ہو جائیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ دلائل و براہین اور قربانی اور ایثار اور فدائیت اور صدق و صفا کے ذریعہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے گی۔تم اپنی زندگی میں ثواب لوٹتے رہے ہو اور ہم بچے اس سے محروم رہے ہیں۔آج ثواب حاصل کرنے کا ایک دروازہ ہمارے لئے کھولا گیا ہے۔ہمیں چند پیسے دو کہ ہم اس دروازہ میں سے داخل ہو کر ثواب کو حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کی فوج کے ننھے منے سپاہی هو بن جائیں اللہ تعالی آپ سب کو اس کی توفیق عطا کرے آمین "۔ہماری جماعت میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر بچہ اٹھنی دے مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر بچہ جتنا دے سکتا ہے ضرور دے۔اگر وہ دھیلا دے سکتا ہے، اگر وہ پیسہ دے سکتا ہے، دونی دے سکتا ہے، اگر وہ چونی دے سکتا ہے تو اتنا اس کو ضرور دینا چاہئے ورنہ آج اس کے دل میں اسلام کی محبت کا وہ بیج نہیں بویا جائے گا جو بڑے ہو کر درخت بنتا اور شیریں پھل لاتا ہے۔اسی طرح فرمایا :۔" وہ غریب خاندان جن کے دلوں میں نیکی کرنے اور ثواب کمانے کی خواہش پیدا ہو لیکن ان کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ ان کا ہر بچہ اس تحریک (وقف جدید) میں ایک اٹھنی ماہوار دے سکے تو ان لوگوں کی