حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 608
557 جشن منائے یعنی وہ لوگ جن کو سوواں سال دیکھنا نصیب ہو وہ صد سالہ جشن منائیں اور میں بھی اپنی اسی خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ صد سالہ جشن منایا جائے۔اس کے لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے اور میں نے بڑی دعاؤں کے بعد اور بڑے غور کے بعد تاریخ احمدیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگلے چند سال جو صدی پورا ہونے سے قبل باقی زہ گئے ہیں وہ ہمارے لئے بڑی ہی اہمیت کے مالک ہیں۔اس عرصہ میں ہماری طرف سے اس قدر کوشش اور اللہ کے حضور اس قدر دعائیں ہو جانی چاہئیں کہ اس کی رحمتیں ہماری تدابیر کو کامیاب کرنے والی بن جائیں اور پھر جب ہم یہ صدی ختم کریں اور صد سالہ جشن منائیں تو اس وقت دنیا کے حالات ایسے ہوں جیسا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایک صدی گزرنے کے بعد ہونے چاہئیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ یہ جماعت اس کے حضور قربانیاں پیش کر کے غلبہ اسلام کے ایسے سامان پیدا کر دے۔اس کے فضل اور اس کی دی ہوئی عقل اور فہم سے اور اسی کے سمجھائے ہوئے منصوبوں کے نتیجہ میں دنیا کے وہ لوگ بھی جنہیں اس وقت اسلام سے دلچسپی نہیں ہے وہ بھی یہ سمجھنے لگیں کہ اب اسلام کے آخری اور کامل غلبہ میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا۔یہ سپریم ایفرٹ (Supreme Effort) یعنی انتہائی کوشش جو آج کا دن اور آج کا سال ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔اس آخری کوشش کے لئے ہمیں کچھ سوچنا ہے اور پھر سب نے مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔یہ خیال کر کے کہ سولہ سال کے بعد جماعت احمدیہ کے قیام پر ایک سوسال پورے ہو جائیں گے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت پر اس معنی میں کہ آپ نے جو پہلی بیعت لی اور صالحین اور مطہرین کی ایک چھوٹی سی جماعت بنائی تھی اس پر ۲۳۔مارچ ۱۹۸۹ء کو پورے سو سال گزر جائیں گے۔میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہمیں کوئی منصوبہ بنانا چاہئے