حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 588
537 کے نفع سے دینی کام کرنا چاہتے تھے انہوں نے مجھے یہی مشورہ دیا۔میں نے انہیں کہا کہ بات یہ ہے کہ جس سے میں تجارت کر رہا ہوں وہ تو آٹھ فیصد یا دس فیصد یا بارہ فیصد نفع نہیں دیتا۔اور کمپنیوں میں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دو سال نفع دیں اور تیسرے سال گھاٹا ظاہر کریں لیکن جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ تو بغیر حساب دینے والا ہے۔پس میں تو اسی سے تجارت کروں گا۔چنانچہ کئی آدمیوں کی طبیعتوں میں انقباض پیدا ہوا کہ ۵۳ لاکھ کا سرمایہ ہو اور میں کہوں کہ ضرورت کے مطابق خرچ کرتے چلے جاؤ۔کئی دوستوں نے سوچا کہ یہ کیا ہو گا۔بعض مجھ سے دبی زبان میں ذکر کر دیتے تھے کہ بعد میں کیا کریں گے اس طرح تو روپیہ ختم ہو جائے گا لیکن جس سے میں نے تجارت کی (اللہ اکبر) اس نے ہمارے اعتماد کو اس طرح پورا کیا کہ افریقہ میں ہسپتالوں کی خالص بچت ملا کر نصرت جہاں ریزرو فنڈ کی کل وصولی ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپیہ ہوئی جب پادری وہاں گیا تو وہ ان کی دولتیں لوٹ کر واپس لے آیا لیکن جب محمد علی الا اللہ کے اونی غلام وہاں پہنچے تو وہ باہر سے بھی ان کے پاس روپیہ لے کر گئے اور جو کچھ انہوں نے وہاں کمایا وہ بھی انہی پر خرچ کر دیا۔ایک دھیلا بھی وہاں سے باہر لے کر نہیں گئے " ۳۳۔اسی طرح حضور نے جلسہ سالانہ ۱۹۸۱ء کے موقع پر نصرت جہاں ریزرو فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔احباب جماعت نے ۵۳ لاکھ روپے کی قربانی پیش کی تو دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اس رقم کو ریزرو میں رکھیں۔اس سے جو منافع ملے اسے استعمال میں لائیں۔۔۔میں نے پوچھا کتنا منافع مل سکے گا۔بتانے والوں نے بتایا کہ ۱۲ سے ۱۴ فیصد منافع مل سکے گا۔اس پر میں نے کہا کہ میں جس سے تجارت کر رہا ہوں اس نے مجھے کہا ہے کہ میں بے حساب دوں گا۔۔۔۔۔