حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 41 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 41

41 نماز کے لئے جایا کرتا تھا کیونکہ عشاء کی نماز مسجد مبارک میں بہت دیر سے ہوتی تھی اور میں مدرسہ احمدیہ میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔پڑھائی کی طرف توجہ دینے اور نیند پوری لینے کی خاطر حضرت ام المومنین۔مجھے فرماتی تھیں۔تم مسجد اقصیٰ میں جا کر نماز پڑھ آیا کرو۔ورلی سیڑھیاں یعنی مسجد مبارک کی وہ سیڑھیاں جو اس دروازہ کے ساتھ ہیں جو دار مسیح کے اندر جانے والا دروازہ ہے وہاں سے میں اترتا۔وہ گلی بڑی اندھیری تھی۔اب تو شاید وہاں بجلی لگ گئی ہو گی۔اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی۔ایک دن میں نیچے اترا نماز کے لئے تو عین اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی لائن نماز کے لئے جا رہی تھی اور اندھیرا تھا۔خیر میں لائن میں شامل ہو گیا لیکن اس اندھیرے میں کچھ پتہ نہیں لگ رہا تھا۔میرا پاؤں ایک طالب علم کے سلیپر پر لگا اور وہ سمجھا کہ کوئی لڑکا اس سے شرارت کر رہا ہے وہ پیچھے مڑا اور ایک چپیڑ مجھے لگا دی اس کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کسے میں چپیڑ لگا رہا ہوں اور کیوں لگا رہا ہوں۔مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس کے سامنے ہو گیا تو اس کو بہر حال شرمندگی اٹھانی پڑے گی اس خیال سے میں ایک طرف کھڑا ہو گیا اور جب پندرہ ہیں بچے وہاں سے گزر گئے تب میں دوبارہ اس لائن میں داخل ہو گیا تاکہ اس کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔" غریبوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے اور انسانی مساوات کا آپ کو سبق سکھانے کے لئے حضرت اماں جان نے جو طریقہ استعمال فرمایا اس کا ذکر کرتے ہوئے رم آپ نے فرمایا۔د مجھے یاد ہے کہ ایک دو یتیم بچوں (بہن بھائی) کو حضرت ام المومنین نے پالا تھا۔آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے نہلایا دھلایا اور ان کی جوئیں خود نکالیں۔مجھے وہ کمرہ بھی یاد ہے جہاں دستر خوان بچھا ہوا تھا