حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 40 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 40

40 المسیح الثانی نے ہماری اس طرح تربیت کی ہے۔میں چھوٹا تھا اور اب اس عمر کو پہنچا ہوں ہم نے یہی محسوس کیا کہ حضور کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میرے بچے دنیا کے لئے خیر کا منبع ہوں۔کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے۔اسی خواہش کا حضور نے اپنے ایک شعر میں یوں اظہار فرمایا ہے۔الہی خیر ہی دیکھیں نگاہیں پھر جو ماں ملی (یعنی حضرت ام المومنین ا جس نے میری تربیت کی ویسی ازواج مطہرات کے بعد ماں کسی کو نہیں ملی۔وہ ایسی تربیت کرتی تھیں کہ دنیا کا کوئی ماہر نفسیات ایسی تربیت نہیں کر سکتا۔اس حضرت اماں جان اے اور آپ کے بزرگ والدین نے کچھ اس انداز سے آپ کی تربیت فرمائی کہ آپ کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادیں روشن ہوتی چلی گئیں اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، حضرت محمد رسول اللہ سلم کی محبت اور قرآن کریم سے عشق کے علاوہ بنی نوع انسان کے لئے زبردست محبت و ہمدردی کے جذبات پیدا ہو کر بڑھتے ہی چلے گئے اور بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ سے آپ کا تعلق پیدا ہو گیا اور اللہ تعالٰی کے پیار کے جلوے ظاہر ہونے لگے اور یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا چلا گیا۔ایشیار، عجز و انکساری، سادگی، حیا، خدمت دین کا جذبہ محنت وغیرہ کے اخلاق آپ نے بچپن میں حضرت اماں جان کی تربیت سے سیکھے۔چنانچہ آپ کے اپنے بیان فرمودہ اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح آپ سے آپ کی محسنہ دادی نمازوں کی پابندی کرواتی تھیں۔آپ کی جسمانی نشوو نما کا بھی خیال رکھتی تھیں اور کس طرح بچپن سے آپ کی طبیعت میں حیا اور مروت ودیعت کی گئی تھی۔آپ فرماتے ہیں۔”میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے۔میں بہت چھوٹا تھا اس وقت۔لیکن ابھی تک وہ واقعہ مجھے پیارا لگتا ہے۔میں مسجد اقصیٰ میں عشاء کی