حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 569 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 569

518 جات سے آنے والے نمائندگان نے تجاویز پیش کیں۔بعض نے تحریری تجاویز بھجوائیں۔ایک سو پچاس (۱۵۰) تجاویز کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا۔(۱) علمی و تحقیقی کام (II) تبلیغی جد وجهد (III) تعلیمی جد وجهد (IV) اقتصادی بهبود (۷) متفرق ۱۹۶۷ء میں ہی حضور" کی منظوری سے مقاصد کے تعین کو عملی جامہ پہنایا گیا اور فاؤنڈیشن کو سنٹرل بورڈ آف ریونیو سے رجسٹر کروایا گیا۔فلاحی ادارہ ہونے کی وجہ سے اسے ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔دفتر فضل عمر فاؤنڈیشن سب سے پہلا کام فضل عمر فاؤنڈیشن کے دفتر کے قیام کا تھا۔صدر انجمن احمدیہ کے احاطہ میں نوے سال کے لئے زمین پٹہ (Lease) پر لے کر دفتر کی عمارت تعمیر کی گئی، حضرت خلیفہ المسیح الثالث " نے اپنے دست مبارک سے ۶۔اگست ۱۹۲۶ء کو دفتر کی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھا اور ۱۵۔جنوری ۱۹۶۷ء کو فاؤنڈیشن کے صدر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے دفتر کا افتتاح فرمایا :۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے ثمرات حضرت خلیفہ المسیح الثالث " نے ۴۔جولائی ۱۹۸۰ء کو مسجد نور فرینکفورٹ (مغربی جرمنی میں خطبہ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا :۔" سب سے پہلے میری طرف سے فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ پیش ہو جماعت نے اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق اس میں حصہ لیا۔اس کے تحت بعض بنیادی نوعیت کے کام انجام دیئے گئے۔یہ گویا ابتداء