حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 39 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 39

39 کو ختم بچے کی بہترین تربیت ہو سکتی تھی کیونکہ انسان کا گھر ہی اس کی اصل تربیت گاہ ہوتی ہے۔اس مقدس گھر میں جہاں آپ کی پیدائش ہوئی اور آپ کا بچپن گزرا اس پر ذرا غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ واقعی تربیت کے لئے وہ بہترین ماحول تھا۔ایک طرف مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت یافتہ بیوی حضرت ام المومنین آپ کے لئے بمنزلہ ماں تھیں جنہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنا لیا دوسری طرف حضرت مسیح موعود اور ام المومنین " کا ہی لخت جگر اور خلیفہ وقت آپ کا والد تھا اور حضرت مسیح موعود اور ام المومنین کی بڑی بہو اور خلیفہ وقت کی بیوی آپ کی حقیقی ماں تھیں جن کا ایک ایک لمحہ خلیفہ وقت کا کام بنانے میں وقف تھا۔حضرت مسیح موعود اور حضرت ام المومنین " کا بڑا پوتا ہونے کی وجہ سے خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے افراد جیسے آپ کے چا حضرت مرزا بشیر احمد الله اور حضرت مرزا شریف احمد اللہ آپ کی پھوپھیاں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت سیده نواب امتہ الحفیظ بیگم بھی آپ سے بہت پیار کرتے تھے اور یہ سارے وجو د شعائر اللہ میں سے ہونے کی وجہ سے آپ کی تربیت میں ممدو معاون تھے۔پھر حضرت ام المومنین کے بھائیوں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ا الله اور حضرت میر محمد اسحاق ال کو آپ سے پیار تھا اور ان کا نیک نمونہ بھی آپ کے سامنے تھا۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود کے وہ صحابہ جن کا کوئی جسمانی رشتہ تو آپ کے ساتھ نہ تھا لیکن وہ اپنے مقام کے لحاظ سے بہت بلند تھے اور حضرت مصلح موعود کے دست و بازو سمجھے جاتے تھے ان کا پیار اور ان کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ تھیں اور ان کا نیک نمونہ بھی آپ کے سامنے تھا۔غرض وہ ایک ایسا حسین روحانی ماحول تھا جس میں آپ پروان چڑھے کہ اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ حضرت اماں جان اور حضرت مصلح موعود کا آپ کی تربیت میں خاص ہاتھ تھا جیسا کہ آپ نے اپنے خطاب اول بعد از انتخاب خلافت ثالثہ کے موقع پر فرمایا:۔رض آپ مجھے اپنا ہمدرد اور خیر خواہ پائیں گے کیونکہ سید نا حضرت خلیف"