حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 37 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 37

37 ایک مرتبہ جامعہ احمدیہ کے زمانہ میں آپ قادیان میں ہاکی کھیل رہے تھے کہ سکھوں کے شرارت کرنے کی کوئی خبر پہنچی۔آپ بڑی دلیری سے ہاکی لے کر وہاں سینکڑوں سکھوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پہنچ گئے۔کرنل (ریٹائرڈ) صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔" شاید ۱۹۲۹ء کا زمانہ تھا۔حضرت مصلح موعود کشمیر گئے ہوئے تھے آپ جامعہ احمدیہ کھلنے کی وجہ سے پہلے واپس آچکے تھے۔شاید ستمبر کا مہینہ تھا۔حضرت ماسٹر چراغ محمد صاحب موضع کھارا سے دوڑتے ہوئے آئے کہ سکھوں نے ہماری فصلوں میں اونٹ چھوڑ دیئے ہیں اور شرارت سے بلوہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔آپ اس وقت ہاکی کھیل تھے۔بائیں تئیس نوجوان کھیل میں موجود تھے۔آپ کھیل کو رہے چھوڑ کر ان جوانوں کو لے کر موضع کھارا کی طرف دوڑ پڑے۔اس وقت موضع کھارا کی حد پر سینکڑوں سکھ تھے جو ہر قسم کے اسلحہ سے مسلح لڑائی کے لئے تیار تھے۔آپ پہلی پارٹی کے ساتھ پہنچے جس کے پاس صرف ہاکیاں تھیں۔بعد میں گو اپنے سینکڑوں لوگ وہاں پہنچ گئے مگر آپ سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے تھے۔ایسے موقعوں پر ڈر اور خوف تو آپ کے کبھی قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے۔اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ » ۸ بچپن میں ایک مرتبہ آپ نے گت کا کھیلنا بھی سیکھا۔چنانچہ مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب سابق لیکچرار دینیات تعلیم الاسلام کالج ربوہ بیان کرتے ہیں۔صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو) کی رفاقت مجھے بچپن سے میسر رہی۔نو دس سال کی عمر میں اکثر حضرت سیده ام ناصر صاحبہ کے ہاں جایا کرتا تھا اور وہیں پر حضرت صاحبزادہ صاحب سے واقفیت ہوئی جو بعد میں دوستی اور رفاقت کا رنگ اختیار کر گئی۔حضرت فضل عمر سے بھی وہاں اکثر مصافحہ کا شرف حاصل ہو تا۔