حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 35
35۔بچپن کے مشاغل جن لوگوں نے آپ کو بچپن میں دیکھا ہے ان کے بیان کے مطابق آپ مدرسہ احمدیہ میں بڑی باقاعدگی سے جاتے تھے اور بڑی محنت کے ساتھ پڑھتے تھے۔عام طالب علموں کی طرح پڑھائی کو سال کے آخر پر نہ چھوڑتے تھے۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ آپ کھیلوں میں بھی باقاعدہ حصہ لیتے تھے۔فٹ بال۔والی بال۔کبڈی وغیرہ کھیلتے تھے۔جسمانی نشوو نما کے لئے ڈمبل اور کھینچنے کے سپرنگ سے بھی ورزش کیا کرتے تھے۔تیرا کی اور گھوڑ سواری بھی کرتے تھے۔بچپن میں آپ کو نشانہ بازی کا بہت شوق تھا اور آپ شکار کے لئے بھی جایا کرتے تھے۔آپ کی بہن حضرت سیده ناصرہ بیگم صاحبہ بچپن کے زمانے کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں۔کبھی چھٹی کے دن وہ مجھے ساتھ لے کر بھینی کی طرف یا بادوں کے باغ کی طرف شکار کے لئے بھی لے جاتے۔ہوائی بندوق اور غلیل سلام الله سے خود شکار کرتے اور مجھ سے نشانہ لگواتے۔۱۴ آپ نے خود ایک مرتبہ فرمایا:۔میں اپنے زمانہ میں ہاکی بھی کھیلتا رہا ہوں۔اسی طرح بعض اور کھیل بھی جن کا مجھے موقع ملا کھیلتا رہا ہوں یعنی فٹ بال بھی ، ہاکی بھی، کرکٹ بھی، ٹینس بھی، سکائش ریکٹ بھی، میرو ڈبہ اور گلی ڈنڈا بھی اور کلائی پکڑنا (جسے پنجابی میں بینی پکڑنا کہتے ہیں) وہ بھی کھیلتا رہا ہوں اب نام لیتے وقت مجھے یاد آیا کہ بعض کھیل میں نے نہیں کھیلے کیونکہ ان کے کھیلنے کا مجھے موقع نہیں ملا لیکن بہت سے کھیل کھیلے ہیں۔میں نے سیر بھی کی ہے اور بہت کی ہے۔سیر بھی بہترین ورزش ہے۔پھر سیر کی ایک شکل بہت اچھی اور صحت مند غذا کے حصول کے لئے شکار کھیلنا ہے چنانچہ میں شکار بھی کھیلتا رہا ہوں۔پھر تیرا کی بھی کرتا رہا ہوں۔قادیان کے پاس نہریں تھیں اور بعد میں تالاب بھی بن گیا تھا لیکن