حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 489
434 کے سوا کامیاب نہیں ہو سکتی، دعائیں کر کے تیری مدد کریں گے۔۔۔۲س اس طرح حضور" کا سترہ اٹھارہ سالہ دور خلافت اپنی حسین یادیں چھوڑ کر ختم ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے دور خلافت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ جو لائحہ عمل حضور نے اپنی خلافت کے آغاز پر جماعت کے سامنے رکھا تھا حضور کی تمام تر توجہ اس کی طرف رہی اور اس طرح حضور کا زمانہ خلافت حضرت مصلح موعود کے زمانہ خلافت میں جاری ہونے والے منصوبوں کی تکمیل و توسیع کا دور ثابت ہوا۔رم خلافت ثالثہ میں ہر نیا دن احمدیت کی فتح اور کامرانی اور ترقی کا پیغام لایا۔ہر ایک طرف وسعت پیدا ہوئی۔جب حضور خلیفہ ہوئے تو اس وقت ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ پر لوگوں کی تعداد اسی ہزار تھی اور پھر دیکھنے والے نے دیکھا کہ حضور کی زندگی کے آخری جلسہ سالانہ پر ۱۹۸۱ء میں حاضری دو لاکھ تھی گویا اڑھائی سو فیصد اضافہ ہوا۔حضرت مصلح موعود کے جنازے میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار تھی اور حضرت خلیفہ ثالث کے جنازے میں شامل ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ تھی۔۱۹۶۵ء کا صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا بجٹ سوا چونتیس لاکھ روپے تھا اور ۱۹۸۲ء میں یہ بجٹ ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان تحریک کا ۱۹۶۵ء کا مجموعی بجٹ پونے چھتیس لاکھ روپے سے بڑھ کر ۱۹۸۲ء میں ساڑھے پانچ کروڑ تک پہنچ گیا۔وقف جدید کا بجٹ سوا لاکھ روپے سے سوا دس لاکھ گیا۔خصوصی مالی تحریکات اس کے علاوہ ہیں۔خلافت ثالثہ میں قرآن کریم اس کے تراجم اور سلسلہ کی کتب کی غیر معمولی اشاعت ہوئی، احمدیہ مشنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، ممالک بیرون میں ۴۲۵ نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔غرض ہر پہلو سے حضور کے دور خلافت میں غیر معمولی وسعت پیدا ہوئی۔جدید حضور نے خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے اگلے دن فرمایا تھا۔" کل شام کو اس مجلس انتخاب نے خاکسار کو منتخب کیا ہے اور خدا شاہد ہے کہ آج صبح بھی میری حالت ایسی تھی جیسے اس شخص کی ہوتی روپے ہو