حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 482
427 براہ راست رابطہ میں جو خلاء پیدا ہو گیا تھا اسے پر کرنے کے لئے آنحضرت میر کی سنت کے مطابق حضور نے 11 اپریل ۱۹۸۲ء کو سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ بنت خان عبدالمجید خان صاحب آف ویرووال کے ساتھ عقد ثانی فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی آخری بیماری اور وصال سپین کی مسجد مکمل ہو چکی تھی اور اس کے افتتاح کے لئے ۱۰ ستمبر کا دن مقرر ہو چکا تھا۔۲۳ مئی ۱۹۸۲ء کو سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث " ربوہ سے صبح آٹھ بجے چند ندید دنوں کے لئے اسلام آباد تشریف لے گئے تاکہ ویزے وغیرہ لگوائے جائیں۔۲۶ مئی بروز بدھ عشاء کی نماز کے دوران حضور کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی۔ید کمزوری محسوس ہوئی اور ساتھ ہی پسینہ سے بدن تر ہو گیا، بقیہ نماز حضور نے بیٹھ کر پڑھائی۔اس کے فوراً بعد ڈاکٹری معائنہ کے نتیجہ میں معلوم ہوا کہ خلاف عادت خون کا دباؤ بڑھا ہوا ہے۔خون میں شکر کی مقدار کم از کم ضرورت سے بھی زیادہ گر گئی۔فوراً علاج کے بعد دو دنوں میں طبیعت تدریجا بہتر ہوتی گئی لیکن اس مئی قبل دو پھر اچانک دل کی رفتار بہت بڑھ گئی اور ساتھ ہی سانس کی تکلیف شروع ہو گئی۔اس مرض کا فوراً علاج شروع کر دیا گیا۔یکم جون کو پاکستان کے بہترین ماہر امراض قلب نے حضور کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ان کی رائے میں صورت حال تسلی بخش نہ پائی گئی۔دل اور سانس کی تکلیف بدستور رہی۔ماہرین نے فوری علاج تجویز کئے۔۲ جون کی شام کو طبیعت قدرے بہتر ہو گئی۔۳ جون کو انگلستان کے مشہور سینٹ تھامس ہسپتال لندن کے ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکٹر سٹیون جینکنز (Steven Jankins) کو اسلام آباد (پاکستان) بلوایا گیا انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ۳۱ مئی بروز پیر حضور کو دل کا شدید دورہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں دل کی کار کردگی کمزور پڑ گئی ہے اور سانس کی تکلیف ہو گئی ہے۔چونکہ حضور کو پہلے ہی ذیا بیطس کی تکلیف بھی تھی اس لئے بیماری انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گئی۔چنانچہ ڈاکٹر سٹیون جینکنز کے مشورہ کے مطابق علاج جاری رہا۔پاکستان میں فضل عمر ہسپتال ربوہ کے ڈاکٹر ز لطیف احمد قریشی اور