حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 476
421 پھر خلافت کی ذمہ داریوں میں ۱۹۷۴ء کے حالات آئے یعنی نہ مجھے ہوش تھی کہ دن کس وقت چڑھتا ہے اور کس وقت غروب ہوتا ہے اور رات کب آتی ہے اور کب جاتی ہے۔نہ ان کو۔لگی ہوئی تھیں میرے ساتھ جماعت کی خدمت کے لئے سارا دن یہ کام کرنے۔پھر پڑھی لکھی کافی تھیں۔منشی فاضل فارسی میں کیا ہوا تھا جو سب سے بڑا فارسی کا امتحان ہے۔اردو کی ڈگری تھی پاس ، میٹرک کیا ہوا تھا۔خدا داد فراست تھی۔شغف تھا۔میں سمجھتا ہوں تاثر ہے میرا کہ میری حفاظت کے لئے اپنا طریق بنا لیا تھا کہ جب تک میں نہ سو جاؤں رات کو آپ نہیں سوتی تھیں کتاب پڑھتی رہتی تھیں اور جب میں غسل خانے جا کے واپس آ کے اپنی طرف کی بتی بجھا کے لیٹ جاتا تھا پھر دو منٹ کے بعد بھی بجھا کے لیٹ جاتی تھیں۔تو ۱۹۷۴ء میں عورتوں کو تسلی دلانی۔ان کے غم میں شریک ہونا۔اور بالکل بے نفس تھیں۔پھر مجھے آج پتہ لگا کہ ۷ ۱ کی وصیت کی ہوئی تھی ممکن ہے ۱۹۳۴۴۳۵ء میں کسی وقت سامنے آئی ہو بات لیکن کبھی ذکر نہیں کیا اور چھپایا ہوا تھا۔جب کہیں سے کوئی آمد ہوتی۔مثلاً زمین کی آمد ہو گئی یا اور کچھ حصے میں نے ہی مہر میں دے دیئے تھے شوگر مل کے وہ تھوڑی سی آمد ہو گئی۔پہلا کام کرتی تھیں کہ اپنی وصیت ادا کر ، دیں لیکن مجھے نہیں دیتی تھیں کیونکہ مجھے پتہ لگ جائے گا کہ ۷ کی ہے تو ایک اور شخص تھا جس کے سپرد یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی۔میں کہتا بھی بعض دفعہ کہ مجھے دیدیں دفتر میں جمع کروا دیتا ہوں مگر مجھے کہتیں کہ فلاں شخص میں آ رہا۔میں نے اپنی وصیت | ادا کرنی ہے (میں کہتا کہ) مجھے دے دو میں دفتر کو دے کر ابھی بھیجوا دیتا ہوں (کہتیں) کہ نہیں۔میں تو اسی کے ہاتھ بھیجواؤں گی۔اور آج پتہ لگا کہ کیوں کہہ رہی تھیں۔یہ نہیں ظاہر ہونے دینا چاہتی تھیں کہ ا کی وصیت ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ جو بغیر جھگڑے کے پیچھے مال چھوڑا اس کی وصیت کا انتظام خود ہی اس طرح کیا ہوا تھا کہ رقم جمع تھی اس میں سے ۳۱ ہزار کے قریب رقم وصیت کی دے دی۔جو تھوڑی سی زمین سندھ میں ہے ، میں نے تاکید کی ہے کہ ۳ مہینے کے اندر اندر اس کی قیمت ڈلوا کے بتائیں، جتنی بنے گی وہ بھی ادا ہو جائے گی انہی کے پیسوں سے ادا ہو جائے گی اور