حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 477 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 477

422 کچھ ایسی زمین ہے جن پر مقدمے چل رہے ہیں یا مشترکہ ہے ، ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ کس کے حصہ میں کیا ملنا ہے لیکن وہ وصیت بھی کی، اللہ تعالیٰ نے سامان بھی پیدا کر دیا۔کہ جو چیز بالکل واضح طور پر بغیر کسی جھگڑے کے تھی اس کی وصیت ۳۱ ہزار روپے بڑی تھوڑی ہے چیز یعنی خدا تعالیٰ کو دینے کے لئے ساری دنیا دے دیں تب بھی تھوڑی ہے لیکن بہرحال اس کا سامان بھی خدا تعالٰی نے کر دیا کہ مرنے والی پر کسی کا یہ احسان نہ ہو ، صدرانجمن احمدیہ کا یا کسی کا کہ ہم نے دو ہفتے کے بعد پیسے وصول کئے۔مجھے کہا بھی کہ کل ہو جائے گا۔میں نے کہا بالکل نہیں۔وصیت کی فائل میرے پاس آنے سے پہلے یہ رقم ادا ہونی چاہئے۔میں نے کاغذ سارے دے دیئے حساب کر کے وہ ساری رقم ادا ہو گئی۔طبیعت میں نمائش اور دکھاوا بالکل نہیں تھا۔میرے ساتھ سات دوروں پر رہی ہیں۔میں صبح سوچ رہا تھا کہ پچھلے سال جب پین کی مسجد کی بنیاد رکھی گئی تو پیڈرو آباد کے قریباً سارے بچے اور عورتیں ان کی واقف ہوئیں۔پاس بیٹھیں۔کوئی آدھا گھنٹہ کوئی گھنٹہ۔اب انشاء اللہ مسجد کا افتتاح جب ہو گا تو ان کو یاد کریں گی ، لیکن اس لئے نہیں انہوں نے ان کے ساتھ پیار اور حسن سلوک کیا کہ وہ یاد کریں۔اس لئے کیا کہ اللہ انہیں بھولے نہ۔میں عجیب انسان بنایا گیا ہوں مثلاً کھانے کے لحاظ سے تھوڑا سا کھاتا ہوں۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنی تھوڑی میری غذا ہے، لیکن ہونی چاہئے میرے پسند کی۔کیونکہ جتنا میں کھاتا ہوں اگر وہ بھی میں نہ کھا سکوں پھر میں کام نہیں کر سکتا تو دورے میں چھوٹی چھوٹی چیز کا خیال رکھنا، پانی کا۔کسی قسم کا پانی ہے۔چائے کی پیالی مجھے کبھی نہیں بنانے دی کہ میں آپ بناؤں گی۔اور غیر ملکوں میں جس سے ملیں اس کے اوپر اپنا اثر چھوڑا۔خدا تعالیٰ انسان کو جو صفات دیتا ہے وہ اسی لئے دیتا ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت کی جائے اور وہ اثر قبول کریں۔جب ۱۹۷۰ء میں پہلی دفعہ میں غانا گیا تو میں نے کہا مصافحے کریں گے تو وہاں جتنی عورتیں اتنے مرد۔پتہ نہیں کتنی دیر لگ گئی۔دو اڑھائی گھنٹے شائد اور ایک ہی وقت