حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 474
419 وہاں باندھ کے رکھ دینا تھا لیکن میں کالج چلا گیا اور منصورہ بیگم کے چہرہ پر کوئی ملال نہیں تھا، گھبراہٹ نہیں تھی۔ان حالات میں سے گزرے بشاشت سے ہم دونوں۔جماعت کی خدمت کا موقع ملا۔بڑی دلیر عورت تھیں اس جگہ میں ذکر کروں کہ جب میں ۱۹۷۶ء میں پہلی دفعہ امریکہ گیا تو ہمیں ایک امریکن کا خط ملا کہ میں آپ کو یہ بتاتا ہوں ، انذار کرتا ہوں کہ آپ کی جان لینے کے لئے تین کوششیں کی جائیں گی۔اگر وہ ناکام ہو ئیں تو پھر چوتھی کوشش کی جائے گی۔آپ کو اغوا کرنے کے لئے۔پہلے تو میں نے یہ خط جیب میں رکھ لیا کیونکہ مجھے تو پتہ ہی نہیں ڈر کہتے کسے ہیں۔پھر مجھے خیال آیا کہ ہم ان کے ملک میں ہیں۔جماعت کہے گی کہ ہمیں کیوں نہیں اعتماد میں لیا۔میاں مظفر احمد صاحب کو بھی پہلے میں نے نہیں بتایا۔پھر ان کو بتا کے وہ خط جماعت کے سپرد کر دیا۔انہوں نے اپنا جو انتظام کرنا تھا وہ کیا۔جماعت امریکہ نے (چونکہ کینیڈا جانا تھا) کینیڈین ایمبیسڈر سے بھی بات کی۔لمبا قصہ ہے۔جب میں ٹورنٹو میں اترا تو جماعت نے کہا کہ آپ کا سامان بعد میں آ جائے گا۔قریب ہی ایک عمارت ہے وہاں احمدی دوست مرد و زن اکٹھے ہیں آپ چلیں ایک آدمی چھوڑ جائیں۔وہ سامان لے آئے گا۔ہم وہاں اس کا انتظار کریں گے۔دو تین فرلانگ ہے وہ جگہ۔ہم وہاں چلے گئے۔مستورات علیحدہ تھیں ان سے سے منصورہ بیگم نے مصافحہ کیا۔میں نے مردوں سے مصافحہ کیا۔پھر ہم کھڑے ہو گئے۔برآمدہ سے باہر بڑی اچھی فضا تھی۔موسم اچھا تھا۔منصورہ بیگم فارغ ہو کے میرے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔انہوں نے دیکھا ہر احمدی میری طرف متوجہ ہے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کوئی شخص دبے پاؤں آہستہ آہستہ قدم قدم قریب آ رہا ہے۔ان کو اللہ تعالی نے فراست بڑی دی تھی۔دماغ نے کہا جس شخص نے خط لکھا تھا قتل کی دھمکی جس میں دی گئی تھی یہ وہ شخص ہے۔نہ جان نہ پہچان۔یہ میرا پہرہ دار بن کے کھڑی ہو گئیں میرے پیچھے اور جس وقت وہ اور قریب آیا تو خدام الاحمدیہ میں سے کسی کو کہا کہ یہ وہ شخص ہے (انہیں بھی