حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 469 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 469

414 انڈونیشین زبان میں دس پاروں کا ترجمہ مکمل ہے بقیہ زیر تکمیل ہے اس چنانچہ حضور نے ان کاموں کو مسلسل جاری رکھا اور حضور کے دور کے آخر تک اردو کے علاوہ انگریزی، لوگنڈی، گورمکھی، ڈینش، سواحیلی، جرمن، ڈچ، یوروبا انڈونیشین، اسپرانٹو میں تراجم شائع ہوئے اور کئی اور زبانوں میں مختلف مراحل تک پہنچے۔حضور نے صد سالہ جوبلی تک سو زبانوں میں تراجم کا منصوبہ بنایا جو خلافت رابع میں تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔۱۹۸۱ء میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ یہ پیش آیا کہ حضور کی رفیقہ حیات حضرت سیده منصوره بیگم صاحبہ ایک مختصر علالت کے بعد ۳ دسمبر کو بوقت ساڑھے آٹھ بجے رات وفات پا گئیں ، حضور نے اس موقع پر غیر معمولی صبر کا نمونہ دکھایا اور نعش کو گھر میں چھوڑ کر ۴ دسمبر کا جمعہ پڑھانے کے لئے مسجد اقصیٰ بنفس نفیس تشریف لائے اور ایک معرکتہ الا را خطبہ دیا جس میں آپ نے حضرت بیگم صاحبہ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کو ۲۳ نومبر ۱۹۸۱ء کو گردے کا درد شروع ہوا اور ۲۷ نومبر ۱۹۸۱ء کو بیماری تشویشناک صورت اختیار کر گئی، علاج معالجہ جاری رہا اور ساری جماعت حضور کے ساتھ مجسم دعا بن گئی لیکن اللہ تعالٰی کی اٹل تقدیر نہ مل سکی اور حضرت بیگم صاحبہ کا ۳ دسمبر عشاء کے وقت وصال ہو گیا۔۴ دسمبر کو عصر کے وقت ہزاروں عشاق خلافت کے ساتھ حضور نے بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور قطعہ خاص میں حضرت مصلح موعود کے بائیں طرف ایک قبر کی جگہ چھوڑ کر حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی تدفین عمل میں آئی۔قبر تیار ہونے پر حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے ایک لمبی اور پر سوز دعا کروائی۔صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ جب ان کی والدہ حضرت سیده منصوره بیگم صاحبہ فوت ہوئیں تو حضور کی مبارک زبان سے ”اللہ اکبر" کے الفاظ نکلے۔آپ کی اولاد رونے لگی، حضور نے انہیں رونے سے منع فرمایا اور کہا کہ