حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 455 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 455

400 ” دنیا مان ہی نہیں سکتی کہ ۱۹۷۴ء کے سال کا چندہ اس پہلے امن کے سال کے مقابلہ میں سات لاکھ روپے زیادہ تھا۔" ۱۹۷۴ء میں جو دکھ معاندین کی طرف سے جماعت کو پہنچے وہ بلحاظ کمیت و کیفیت غیر معمولی تھے حضور نے جماعت کو اپنے پیغام میں ارشاد فرمایا:۔” دوست دریافت کرتے ہیں کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے میرا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کرو کہ اِسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة استقامت، صبر، دعاؤں اور نمازوں کے ساتھ اپنے رب سے مدد مانگو۔پس صبر کرو اور دعائیں کرو، صبر کرو اور دعائیں کرو“ صبر کرو اور دعائیں کرو۔۱۸ معاندین کی ایذا رسانیوں کے رد عمل کے بارے میں حضور کا جو تصور تھا اس کا اظہار حضور نے ان الفاظ میں کیا۔فرمایا :- " ہم تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ جو اپنی طرف سے ہمارا مخالف ہے۔۔۔اس کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چھے۔۱۹ ۱۹۷۴ء میں جماعت کی مخالفت اور معاندین کی ایذا رسانی کے وقت حضرت خلیفہ المسیح الثالث " جس کرب اور اضطراب کے ساتھ جماعت کے لئے راتیں جاگ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہے وہ بالکل وہی کردار تھا جس کا ذکر حضور نے ۱۹۶۵ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ کے بارہ میں فرمایا تھا۔حضور نے فرمایا۔" جب بھی مخالفین نے ہم پر حملہ کیا اور دنیا نے یہ سمجھا کہ اب جماعت کا بچنا مشکل ہے تو اس وقت دشمن کے چلائے ہوئے تیر اپنے سینے پر اس نے سے۔ہم راتوں کو آرام کی نیند سوتے تھے کیونکہ ہمیں علم ہوتا تھا کہ ایک دل ہے جو ہمارے لئے تڑپ رہا ہے اور جو اپنے مولا کے حضور راتوں کو جاگ جاگ کر بڑی عاجزی سے یہ عرض کر رہا ہے کہ اے خدا! یہ تیرے مسیح کا لگایا ہوا پودا ہے، یہ بے شک کمزور