حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 25 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 25

25 بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد کے والد حضرت مصلح موعود مرزا محمود احمد ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو الہی پیشگوئیوں کے مطابق پیدا ہوئے۔۲۵ سال کی عمر میں سید نا حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفہ المسیح اول کی وفات کے اگلے روز ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو خلافت ثانیہ کے مسند پر متمکن ہوئے اور ایک انقلابی اور نہایت ہی کامیاب نصف صدی پر پھیلا ہوا دور خلافت مکمل کر کے ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو فوت ہوئے۔لرحيم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی پیدائش کے وقت حضرت اماں جان کے والد حضرت میر ناصر نواب صاحب گوجرانوالہ کی جماعتوں کے دورہ پر تھے اور کسی چندہ کی وصولی کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح اول کے ارشاد پر گئے ہوئے تھے انہیں وہاں پر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کے گھر ایک بیٹا ( حضرت مرزا ناصر احمد ) پیدا ہونے کی خبر ملی جس کا ذکر انہوں نے اپنے سفر نامہ کے منظوم کلام میں ان الفاظ میں کیا۔گوجر انوالہ میں وہاں سے چلا پہنچا اک دم میں وہاں بفضل خدا مژده مجھ کو اس جگہ یک مالا گھر محمود کے ہوا خدا نے مژدہ یہ سن کے جان میں جان آئی مہربانی بیٹا فرمائی نکل آئے پر جو تھے مستور اب میں پرنانا ہو گیا مشہور میرے پودوں میں پھل لگائے خدا مجھ کو دادا بھی اب بتائے خدا شکر مالک کا میں بجا لایا وہاں سے لاہور میں چلا آیا میں نے لاہور سے لیا کچھ مال جس نے بخشا وہ مال ہو وہ نہال وہاں سے میں قادیان میں آ پہنچا اور کیا میں نے دل سے شکر خدا خوش ہو گیا وہ میرا نور 2 میری محنت خدا نے کی منظور نور کیسا کہ نور دین ย ہے وہ مجھ سے با دیانت ہے اور امین ہے وہ شان اس کی خدا کرے دو چند ہوں دعا کا میں اس سے خواہش مندب