حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 24
24 آپ کی حقیقی والدہ جو خواتین مبارکہ میں ام ناصر" کے نام سے معروف ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کی بڑی صاحبزادی تھیں۔ام ناصر" کا اصل نام رشیدہ بیگم تھا حضرت مصلح موعود کے ساتھ شادی کے بعد حضرت اماں جان نے ان کا نام تبدیل کر کے محمودہ بیگم رکھ دیا لیکن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی ولادت کے بعد وہ ام ناصر کے نام سے معروف ہوئیں۔رض حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین لاہور کے رہنے والے تھے اور رڑکی میں ملازم تھے۔اس لئے حضرت مصلح موعود " کا نکاح رڑکی میں ہوا۔حضرت مصلح موعود ۲۔اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حضرت مولوی نورالدین الله اور بعض اور صحابہ کے ہمراہ قادیان رڑ کی پہنچے۔حضرت مولوی نورالدین نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نکاح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کی صاحبزادی رشیدہ بیگم کے ساتھ ایک ہزار روپے مہر پر پڑھا۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کے بھائی مخالف تھے اس لئے وہ اس نکاح میں شامل نہ ہوئے۔۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو یہ قافلہ واپس قادیان پہنچا۔تقریب رخصتانہ اکتوبر ۱۹۰۳ء کے دوسرے ہفتے میں آگرہ میں عمل میں آئی جہاں تبدیل ہو کر حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین میڈیکل کالج میں پروفیسر تھے۔وضيح حضرت سیدہ ام ناصر ال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے بڑی بہو ہونے کا شرف حاصل ہے حضرت مصلح موعود کی زیادہ تر اولاد ان ہی میں سے ہوئی۔حضرت سیدہ ام ناصر بہت سی خوبیوں کی حامل تھیں نہایت درجہ خدا رسیدہ غریب پرور اور ہمدرد خلائق خاتون مبارکہ تھیں۔نیکیوں اور قربانیوں میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔الفضل " اخبار جاری کرنے کے لئے انہوں نے اپنے مقدس خاوند کو دو قیمتی زیور پیش کر دئیے اور اسی سرمایہ سے یہ اخبار جاری ہوا۔حضرت ام ناصر اور حضرت مصلح موعود کی رفاقت کا زمانہ پچپن چھپن سالوں تک پھیلا ہوا ہے۔ان کا انتقال -۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء کو مری میں ہوا اور ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔ان کا مزار حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم کے پہلو میں احاطہ خاص رم