حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 386
355 عهد خلافت " میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان لاتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا۔" اس عہد کے دہرانے کے بعد حضور نے رقت بھرے الفاظ میں احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔د" یہ ایک عہد ہے جو صمیم قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ یقین رکھتے ہوئے کہ وہ عالم الغیب ہے ، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ لعنتی ہے وہ شخص جو فریب سے کام لیتا ہے، میں نے آپ لوگوں کے سامنے دہرایا ہے۔میں حتی الوسع تبلیغ اسلام کے لئے کوشش کرتا رہوں گا اور آپ میں سے ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا سلوک کروں گا چونکہ آپ نے مجھ پر ایک بھاری ذمہ داری ڈالی ہے اس لئے میں سے امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنی دعاؤں اور مشوروں سے میری مدد کرتے رہیں گے کہ خدا تعالیٰ میرے جیسے حقیر اور عاجز انسان سے وہ کام لے جو احمدیت کی تبلیغ اسلام کی اشاعت اور توحید الہی کے