حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 364 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 364

349 چنانچہ اس امر کا ذکر سب سے پہلے آپ کی وفات کے بعد آیا جیسا کہ جناب ثاقب زیروی صاحب مدیر ہفت روزہ لاہور نے اپنے مضمون "نقش اولین" میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔”جس کی شیریں زبان سے سب سے پہلی دفعہ ”اپنے رب سے راز و نیاز کی گفتگو سننے کا ۱۹۴۲ء میں شرف حاصل ہوا۔اس ہدایت" کے ساتھ کہ ”ثاقب اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا، روح ان پاکیزه و پر انوار مکالمات سے اکثر سیراب ہوتی رہی لیکن اس "ہدایت اولین" کے باعث لبوں پر ہمیشہ مہر سکوت لگی رہی۔که ان دنوں آپ کی جو کیفیت تھی اسے دیکھنے والوں نے دیکھا اور بیان کرنے والوں نے بیان کیا۔اس سلسلہ میں مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب تحریر فرماتے ہیں۔" تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی عمارت کے مشرقی جانب آپ کی رہائش گاہ تھی۔وہاں آپ کے پاس گل خان نامی ایک پٹھان چوکیدار تھے جو نهایت مخلص اور نیک آدمی تھے۔۱۹۵۵ء سے انتخاب خلافت تک کے زمانہ میں اکثر میں آپ کے پاس بعض کاموں کے لئے آتا جاتا رہتا تھا۔میں نے ایک دن گل خان صاحب سے یہ پوچھا کہ سناؤ! میاں صاحب کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔کہنے لگے رات گئے تک اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے بعد گھر آتے ہیں اور تھوڑی دیر آرام فرمانے کے بعد نماز شہد کے لئے اپنے ڈرائنگ روم میں آ جاتے ہیں اور بڑی آہ وزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر جاتے ہیں وہ ایک لمبا وقت رو رو کر خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت میاں صاحب کے اس عمل میں کبھی ناغہ نہیں دیکھا۔"