حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 352
337۔رہے تھے کہ راستہ میں آپ نے دیکھا کہ جامعہ احمدیہ کی عمارت سے دو آدمی سیمنٹ کے تھیلے باہر لا رہے ہیں۔آپ نے ہم سے فرمایا کہ تم نے دیکھا کہ یہ آدمی سیمنٹ کے تھیلے باہر نکال رہے ہیں۔اس نصف شب کے وقت ہم نے کوئی توجہ ہی نہیں دی تھی آپ نے اپنی کو بھی آکر سب سے پہلے محترم میر داؤد احمد صاحب کو جو ناظم جلسہ سالانہ تھے فون کیا کہ جامعہ کی عمارت سے اس وقت سیمنٹ باہر لے جایا جا رہا ہے۔آپ کے علم میں ہے؟ تو حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ ہاں میں نے ہی منگوایا ہے۔لنگر خانہ نمبر ۲ میں مرمت ہو رہی ہے وہاں اس کی ضرورت خاکسار عرض کرتا ہے کہ جلسہ سالانہ کے ایام بہت ہی بابرکت ہوتے ہیں، ساری ساری رات ان ایام میں خدمت خلق کا کام ہوتا ہے اور کوئی تھکان نہیں ہوتی۔سبھی کارکن خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ اس کی نگرانی کرنے والے حضرت صاحبزادہ صاحب جیسے بابرکت وجود تھے جو دن رات نگرانی کے ہے۔کام میں مصروف رہتے تھے۔جلسہ سالانہ پر تقاریر et قادیان کے زمانہ سے ہی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی جلسہ سالانہ پر تقاریر کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا چنانچہ جلسہ سالانہ ۱۹۴۴ ء پر آپ نے تمدن اسلام کا اثر اقوام یورپ پر اور احمدی نوجوانوں سے خطاب ۶۵؎ کے موضوعات پر تقاریر فرمائیں۔۱۹۵۴ء کے جلسہ سالانہ پر آپ نے "اشتراکیت کے اقتصادی اصول کا اسلامی اقتصادی اصول سے موازنہ" کے موضوع پر معرکتہ الا را تقریر فرمائی آپ کی تقریر کے چند اقتباسات یہ ہیں:۔