حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 334
319 بانس وغیرہ سے کوئی چھپر وغیرہ ڈال دو کہ بارش وغیرہ سے آرام ہو۔خدا تعالیٰ تکلفات کو پسند نہیں کرتا ۵۳ پھر آپ فرماتے ہیں :۔” غرضیکہ ہر جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہئے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے اور جماعت کو چاہئے کہ سب مل کر اس مسجد میں جمع ہو کر نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے پراگندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتفاق اور اتحاد کو بہت ترقی دینی چاہئے اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔"" تو مسجد کے متعلق جو تجویز ہے بڑی اہم ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر نمائندگان اپنے گھروں میں جا کر یہ کوشش کریں کہ جہاں مسجد نہیں وہاں فوری طور پر حضور کی اس ہدایت کے مطابق ایک مسجد تیار ہو جائے زمین گھیر لیں کوئی چھپر ڈالیں۔آپ کے کاموں میں خدا تعالی برکت ڈالے گا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے طفیل۔۔۔اپنے بچوں کی اٹھان اس طرح کریں کہ وہ خود اپنی زندگیاں وقف کرنے کا عزم پیدا کریں۔۔۔۔۔شخص۔ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کو اپنے اندر صحابہ کا سا ایمان اور یقین پیدا کرنا چاہئے اور نیکی اور تقویٰ کی زندہ تصویر ہونا چاہئے پھر اس کے دل میں ہمدردی اور غم خواری ہو۔اگر اس کو یہ یقین ہو کہ ہر وہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتا وہ اللہ تعالیٰ کے قمر کے نیچے اپنی گردن رکھ رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ خدائی قہر سے بچ جائے۔اگر آپ یہ چاہتے ہوں کہ وہ خدا کے غضب کے نیچے نہ آئے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں اور آپ کے دل کو اطمینان نہ ہو اور آپ اپنے گھروں