حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 318
303 انصار کو دو صفوں میں تقسیم کر دیا۔صف دوم میں اکتالیس سے پچپن سال تک کے انصار اور صف اول میں چھپن سال سے اوپر کے انصار۔تعمیر دفتر انصار الله رم مجلس انصار اللہ کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنی صدارت کے زمانے میں ایک اہم کام یہ کیا کہ حضرت مصلح موعود کی دیرینہ خواہش کے مطابق مجلس انصار اللہ کا دفتر ربوہ میں تعمیر کروایا۔دفتر کا سنگ بنیاد یوم مصلح موعود کے موقع پر حضرت مصلح موعود کے مبارک ہاتھوں سے ۲۰ فروری ۱۹۵۶ء کو رکھا گیا۔بلڈنگ کی تعمیر کے لئے عطایا جات اکٹھے کئے لیکن اس دوران گرانی بڑھ جانے اور اخراجات میں کچھ اضافہ ہو جانے کی وجہ سے آپ نے ”من انصاری الی اللہ" کے عنوان سے عطایا جات کی تحریک فرمائی اور سترہ ہزار روپے کی رقم جلد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔آپ نے فرمایا:۔" مجلس انصار اللہ کے دور جدید میں سید نا حضرت امیر المومنین نے میری درخواست پر یوم مصلح موعود کی مبارک تقریب پر دفاتر انصار الله کا سنگ بنیاد رکھا۔اس وقت ہمارے پاس فنڈز موجود نہ تھے اور میں نے محض اللہ تعالی کی امداد پر بھروسہ رکھتے ہوئے حضور کی خدمت میں سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد میں نے انصار اللہ کو پکارا میری آواز من انصاری الی اللہ کے جواب میں چاروں طرف سے نحن انصار الله کا جواب آیا اور مخلصین نے سو سو روپے کے عطیہ جات بھیجوا کر مرکز سلسلہ میں اپنے نشیمن کی تعمیر کے لئے سامان مہیا کر دیا اور چند مہینوں کے اندر اندر انصار اللہ کی شایان شان عمارت کھڑی ہو گئی۔۔۔اب دفاتر اور ہال کی تکمیل باقی ہے ، کارکنان کے کوارٹرز بنتے ہیں، پانی کی فراہمی کے لئے چھوٹا ٹیوب ویل نصب کرنا ہے۔ان تمام کاموں