حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 317
302 ย ہوئی ہر بات کو پورا کرنا آپ کی زندگی کا نصب العین ہو۔چنانچہ اپنی سابقہ روایات کے عین مطابق آپ نے صدر مجلس انصار اللہ کی حیثیت سے مجلس کو کچھ اس طرح منظم کیا اور اس میں جان ڈالی اور خلیفہ وقت کے دیئے ہوئے لائحہ عمل کو حضور ہی کی رہنمائی میں کچھ اس انداز سے عملی جامہ پہنایا کہ انصار اللہ کی تنظیم کا قدم آگے ہی آگے بڑھنے لگا حتی کہ خلافت کے عظیم الشان منصب پر متمکن ہونے کے بعد بھی اس وقت تک اس کی صدارت فرمائی جب تک آپ نے یہ محسوس نہ کر لیا کہ اب انصار اللہ کی تنظیم اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں تک پہنچانے کے لئے آپ کے مقدس امام نے آپ کو صدر بناتے وقت خواہش فرمائی تھی۔انصار اللہ کی تنظیم نو صدر کی ذمہ داریاں تفویض کرتے وقت حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی" نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو ہدایت دی تھی کہ آپ عہدیداروں کا انتخاب کروائیں اور مجلس کو از سرنو تنظیم کریں۔اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے صدارت سنبھالتے ہی انتخاب کروایا اور مجلس کو از سر نو منظم کیا۔جہاں مجلس قائم نہ تھیں وہاں مجالس قائم فرمائیں اور اپنی قائدانہ اور تنظیمی صلاحیتیں بروئے کار لا کر مجلس انصار اللہ کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔انصار اللہ کے مالی نظام میں بھی استحکام پیدا کیا اور تمام شعبوں میں مسابقت کی روح پیدا فرمائی۔انصار اللہ کی ذیلی تنظیم میں وسعت پیدا کرنے کے لئے مجلس کا ضلع وار نظام جاری فرمایا۔مجلس انصار اللہ کے دستور اساسی کی از سرنو تدوین فرمائی۔ہوئی۔مرکزی دفتر کو منظم کیا اور اس کی مستقل عمارت کی تعمیر بھی آپ کے ہی دور میں خلیفہ منتخب ہو جانے کے بعد بھی آپ انصار اللہ کی تنظیم نو کے بارہ میں مسلسل کوشش کرتے رہے حتی کہ ۱۹۷۳ء میں آپ نے انصار اللہ کی تشکیل نو فرمائی اور