حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 316
301 علیحدہ ہو جائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکے گی۔۔مجلس انصار اللہ کے پہلے صدر حضرت مولوی شیر علی صاحب تھے۔ہجرت پاکستان کے جلد ہی بعد نومبر ۱۹۴۷ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ہجرت کی وجہ سے غیر یقینی حالات تھے اور ایک افرا تفری کا عالم تھا۔جماعتوں کے شیرازے بکھرے ہوئے تھے اس لئے اگرچہ ان کی وفات سے چند ماہ بعد حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال (جو تقسیم کے وقت ہندوستان میں قید ہو گئے تھے اور تقسیم کے کئی ماہ بعد رہا ہو کر پاکستان پہنچے تھے) صدر بنائے گئے۔۱۹۵۰ء میں حضرت مصلح موعود نے حضرت چوہدری فتح محمد سیال کی جگہ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کو صدر بنا دیا۔یہ انصار اللہ کا عبوری دور تھا اور جوں ہی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفہ وقت نے مجلس خدام الاحمدیہ کی کامیاب قیادت کے وسیع تجربہ کی وجہ سے کے نومبر ۱۹۵۴ء سے انصار اللہ کا صدر بنا دیا۔آپ کے انصار اللہ کی تنظیم میں شامل ہونے اور تنظیم کا صدر مقرر ہونے پر آپ رم کے ایک بے تکلف خادم محمد احمد صاحب حیدر آبادی نے آپ سے کہا۔”میاں صاحب ! اب آپ بھی بوڑھے ہو گئے ہیں" آپ نے جواباً فرمایا ”میں بوڑھا نہیں ہوا بلکہ انصار اللہ جوان ہو گئی ہے۔" اسم آپ نے اس دعوئی کو کس طرح صحیح ثابت کیا اس کا اندازہ آپ کی ان غیر معمولی خدمات سے ہوتا ہے جو آپ نے انصار اللہ کا صدر ہونے کی حیثیت سے سرانجام دیں۔مرحوم جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے اپنے خطاب فرموہ ۷ نومبر ۱۹۵۴ء میں آپ کو ہدایت دی تھی کہ آپ مجلس انصاراللہ کے عہدیداروں کا انتخاب کروائیں از سر نو تنظیم کریں اور خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی طرح انصار اللہ کا اجتماع کروائیں اور کھیلوں کی بجائے زیادہ تر درس قرآن اور تعلیم و تدریس پر توجہ دیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایک اولوالعزم باپ کے اولوالعزم بیٹے تھے اور اطاعت خلافت کے ایک ایسے مقام پر کھڑے تھے جہاں خلیفہ وقت کے منہ سے نکلی