حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 315
300 اور زیادہ وقت تعلیم و تدریس پر صرف کیا جائے۔" مجلس انصار اللہ کی صدارت حضرت مصلح موعود بھی اللہ نے مجلس انصار اللہ کا قیام ۳۶ جولائی ۱۹۴۰ء کو فرمایا اور اس روز کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔وو میں۔۔۔جماعت کو آئندہ تین گروپوں میں تقسیم کرتا ہوں اول اطفال الاحمدیہ ۸ سے ۱۵ سال تک دوم خدام الاحمدیہ ۱۵ سے ۴۰ سال تک سوم انصار الله ۴۰ سال سے اوپر ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی عمر کے مطابق ان میں سے کسی نہ کسی مجلس کا ممبر بنے خدام الاحمدیہ کا نظام ایک عرصہ سے قائم ہے۔مجالس اطفال الاحمدیہ بھی قائم ہیں البتہ انصار اللہ کی مجلس اب قائم کی گئی ہے۔Ace ایک اور موقعہ پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا :۔” میں نے چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ اور زیادہ عمر والوں کے لئے مجلس انصار اللہ قائم کی ہے یا پھر عورتیں ہیں ان کے لئے لجنہ اماء اللہ قائم کی ہے۔۔۔۔جو قومیں تبلیغ میں زیادہ کوشش کرتی ہیں ان کی تربیت کا پہلو کمزور ہو جاتا ہے۔ان مجالس کا قیام میں نے تربیت کی غرض سے کیا ہے۔؟؟؟ مزید فرمایا:۔” میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو مکمل کر دوں۔ایک دیوار انصار اللہ کی ہے، دوسری دیوار خدام الاحمدیہ کی تیسری اطفال الاحمدیہ اور چوتھی لجنات اماء اللہ ہیں۔اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسرے سے علیحدہ