حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 311
296 خوبرو جوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔”ان سے جاکر کہو وہ شاید کچھ مدد کر سکیں۔۔۔میں یہ سنتے ہی اٹھا اور اس خوش پوش و خوبرو جو ان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔کہا " فرمائیے۔کچھ مجھ سے کہنا ہے؟" " عرض کیا جناب میں اس اجلاس میں نظم پڑھنا چاہتا ہوں" جواب ملا ” نہیں اس جلسے میں آپ نظم نہیں پڑھ سکتے " میں نے اپنے مخصوص دیہاتی لا ابالی پن سے کہا۔۔۔۔”جناب۔۔۔۔کیا قادیان کے جلسوں میں باہر والوں کا کوئی حق نہیں ہوتا؟ کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ میں جلسہ میں جہاں بیٹھا ہوں وہیں کھڑا ہو کر نظم پڑھنا شروع کر دوں؟" مسکراتے ہوئے لیکن تحکمانہ انداز میں جواب ملا :۔"اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کو اٹھا کر مسجد سے باہر پھینک دیں گے میں واپس جا بیٹھا۔۔۔حضرت تایا جان۔۔۔نے فرمایا "کیوں سوہنیا کچھ بنیا؟" عرض کیا ”نئیں تایا جی اوس نوجوان نہیں تاں ایس طراں ٹکے ورگا جواب دے دتا اے جس طراں اوہ حضرت صاحب دا پتر اے" فرمایا۔سوہنیا اوہ حضرت صاحب دا پتر ای تاں اے بھٹی اوہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ہیں۔۔۔۔۔اٹھ کر معذرت خواہی کے لئے پھر پاس پہنچ گیا۔۔۔۔پہلے مسکرائے پھر فرمایا ”آپ پھر آگئے۔اب کیا ارادہ ہے؟ عرض کیا۔۔۔" معذرت کرنے آیا ہوں ؟ فرمایا "اچھا معاف کیا پھر؟ اب عرض ہے کہ آپ میری نظم دیکھ لیں۔۔۔۔میں محفل کو ہرگز بد مزہ نہ ہونے دوں گا فرمایا "کہاں ہے وہ نظم۔۔۔؟" مطالعہ کے بعد فرمایا " نظم تو اچھی ہے، ممکن ہے آپ کی دوسری بات بھی ٹھیک ہو۔۔۔"