حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 13 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 13

13 گھس گئی۔عالی حضرت مصلح موعود کا ایک اور رویا ۱۴ اور ۵ جون ۱۹۵۴ء کی درمیانی شب کا ہے حضور فرماتے ہیں:۔” میں نے دیکھا کہ میرے سامنے کوئی شخص بیٹھا ہے اور میں نے کوئی فقرہ کہا ہے جس میں جماعت احمدیہ پر کچھ تنقید ہے۔میں نے محسوس کیا کہ اس دوسرے شخص نے اس تنقید کرنے کو ناپسند کیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ اس تنقید کو سن کر دشمن اور دوست دلیر ہو جائیں گے اور جماعت کا درجہ گرائیں گے۔اس کے بعد میرے دو لڑکوں نے بھی اسی قسم کا کوئی فقرہ کہا ہے اور ان دو لڑکوں میں سے ایک مرزا ناصر احمد معلوم ہوتے ہیں۔میرے لڑکوں کا فقرہ سن کے اس شخص کے چہرہ پر ایسے آثار ظاہر ہوئے کہ گویا وہ کہتا ہے دیکھئے جو میں سمجھتا تھا ویسا ہی ہوا۔اس پر میں نے کہا کہ تم ان لڑکوں کی بات نہیں سمجھے۔انہوں نے تو وہ کہا ہے جو میں کہلوانا چاہتا تھا۔ان کے فقرے سے یہ مراد ہے کہ جماعت احمدیہ کے تقویٰ اور اخلاق کا مقام اونچا کرنا چاہتے اور ہم اب اس کے لئے کوشش کریں گے پھر میں نے کہا کہ اگر اسی طرح جماعت کے دوسرے مخلصین میں بھی احساس پیدا ہو جائے جو میری غرض تھی تو تھوڑے ہی عرصہ میں جماعت نہایت بلند روحانی معیار پر پہنچ جائے گی اور اس طرف توجہ دلانا میرا مقصود تھا پھر آنکھ کھل گئی۔۱۸۲ حضرت مصلح موعود کو ایک سے زیادہ بیٹوں کے بارہ میں بشارت دی گئی چنانچہ مارچ ۱۹۱۹ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر آپ نے ایک رؤیا کا ذکر یوں فرمایا۔" میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہی میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم کا ہوا۔پھر جوش میں آکر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔اسماعیل