حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 12
12 رض صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی عمر ابھی ایک سال سے کچھ زیادہ ہوئی ہو گی کہ آپ سخت بیمار ہو گئے۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا اور حضرت خلیفہ اول اس وقت بیمار تھے۔آپ کے بزرگ والد سید نا محمود المصلح الموعود اپنے امام اور آقا خلیفۃ المسیح الاول کی تیمارداری کے لئے حضور کے پاس تشریف فرما تھے۔اس دوران کئی بار گھر سے پیغام آیا کہ میاں ناصر احمد تشویشناک طور پر بیمار ہیں اور حضرت مصلح موعود کو گھر بلوایا جا رہا تھا مگر حضرت سید نا محمود حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے باعث احتراما" سن کر خاموش ہو گئے اور حضور کو چھوڑ کر گھر جانا مناسب نہ سمجھا۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے سید نا میاں محمود احمد المصلح الموعود" کو مخاطب کر کے فرمایا :۔رم له ”میاں ! تم گئے نہیں۔تم جانتے ہو یہ کس کی بیماری کی اطلاع دے کر گیا ہے وہ تمہارا بیٹا ہی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پوتا بھی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ آپ کے بارہ میں ۱۹۵۵ء کے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں واپسی کے وقت غالبا زیورک میں تھا کہ میں نے خواب دیکھی کہ میں ایک رستہ پر گزر رہا ہوں کہ مجھے اپنے سامنے ایک ریوالونگ لائٹ (Revolving Light) یعنی چکر کھانے والی روشنی نظر آئی جیسے ہوائی جہازوں کو راستہ دکھانے کے لئے منارہ پر تیز لمپ لگائے ہوئے ہوتے ہیں جو گھومتے رہتے ہیں۔میں نے خواب میں خیال کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے۔پھر میرے سامنے ایک دروازہ ظاہر ہوا جس میں پھاٹک نہیں لگا ہوا۔بغیر پھاٹک کے کھلا ہے۔میرے دل میں خیال گزرا کہ جو شخص اس دروازہ میں کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کا نور گھومتا ہوا اس کے اوپر پڑے تو خدا تعالیٰ کا نور اس کے جسم کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے۔تب میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا ناصر احمد اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہو گیا اور وہ چکر کھانے والا نور گھومتا ہوا اس دروازہ کی طرف مڑا اور اس میں سے تیز روشنی گزر کر ناصر احمد کے جسم میں