حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 293 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 293

278 اس روح کا پتہ چلتا ہے جس کے ساتھ انہوں نے جنگ کشمیر لڑی۔جنگی پوزیشن لینے کے دو دن کے بعد ہمارے سپاہیوں کو ہراساں کرنے کے لئے ایک شب طاقتور پڑول بھیجی گئی جس کے نتیجہ میں دونوں طرف سے گولیاں چلنی شروع ہو گئیں۔ہندوستانیوں نے فرقان فورس کے مورچوں پر شدید گولہ باری شروع کر دی اور فرقان کے سپاہی سمجھے کہ شاید حملہ شروع ہو گیا ہے۔ایک مختصری جھڑپ کے بعد ہندوستانی پسپا ہو گئے اور گولیاں چلنی بند ہو گئیں۔اس کے بعد حسب معمولی جب پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ ہسپتال سے ایک بیمار غائب ہے۔یہ بھی پتہ چلا کہ جب گولیاں چل رہی تھیں وہ چپکے سے اپنے بستر سے اٹھ کر اندھیرے میں پہاڑی پر چڑھ گیا اور اپنے دستہ میں شامل ہو گیا جہاں اس نے مشین گن کے سپاہی کے ساتھ ڈیوٹی ادا کی۔اس مشقت کی وجہ سے اس کی طبیعت اور بھی خراب ہو گئی اور اگلے روز اسے جب کمان افسر کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش کیا گیا تو اس نے اقبال جرم کر لیا لیکن ساتھ ہی یہ بیان بھی دیا کہ جب اس سیکشن پر حملہ ہوا تو وہ یہ برداشت نہ کر سکا کہ اس کے ساتھیوں پر حملہ ہو چکا ہو اور وہ بستر پر پڑا رہے۔اسے گو اس حرکت پر تنبیہ تو کی گئی لیکن جس جذبہ کے ساتھ اس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا وہ ایک قابل تحسین اثر اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔؟ ۲۵ فرقان بٹالین میں اگرچہ بعض فوجی افسر جیسے کرنل سردار محمد حیات صاحب قیصرانی میجر وقیع الزمان صاحب (جو) بریگیڈئیر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے) میجر حمید احمد صاحب، میجر عبدالحمید صاحب وغیرہ کے علاوہ معراجکے میں کام کرنے والے مجاہدین اور وہ افسر جو رضا کارانہ طور پر جنگ کشمیر میں حصہ لے رہے تھے۔شامل تھے لیکن وہ رضاکار جو بطور خاص فرقان بٹالین کے لئے جون ۱۹۴۸ء میں تیار کئے گئے اور جن کو تیار کرنے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی کوششوں کا ذاتی دخل تھا ان کی