حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 294
279 تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ان میں خاندان مسیح موعود کے افراد، مبلغین، جامعہ احمدیہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج کے طلباء اور اساتذہ۔بعض ڈاکٹر زمیندار دکاندار سرکاری احمدی ملازم شامل تھے۔تقریباً تو دس احمدی رضاکار شہید ہوئے۔۱۵ چون ۱۹۵۰ء کو حکومت پاکستان کے فیصلہ کے پیش نظر فرقان بٹالین کو سبکدوش کر دیا گیا۔۱۷ جون ۱۹۵۰ء کو سرائے عالمگیر کے قریب سبکدوشی کی خصوصی تقریب عمل میں آئی جس میں پاکستان کے کمانڈر انچیف کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔۲۰ جون ۱۹۵۰ء کو احمدی رضا کار ربوہ پہنچے جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (جن کو کرنل کا اعزازی رینک ملا تھا اور دوسرے مجاہدین کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔شام کو ایک خاص تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے تقریر فرمائی۔مجاہدین فرقان فورس کے کار ہائے نمایاں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے واقعات بیان فرمائے اور تقریر کا اختام ان الفاظ میں فرمایا : " ہم نے کشمیر میں اپنے شہید چھوڑے ہیں۔جگہ جگہ ان کے خون کے دھبوں کے نشان چھوڑے ہیں۔ہمارے لئے کشمیر کی سر زمین اب مقدس بن چکی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ جب تک ہم کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنا لیں اپنی کوششوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ آنے دیں۔اگرچہ کامیاب جدوجہد کے بعد فرقان فورس کو سبکدوش کیا جا رہا ہے لیکن جس جہاد کا ہم نے خدا سے وعدہ کیا ہے اس میں سبکدوشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی معلوم ہوتا ہے کہ قربانیوں کا دور چلتا چلا جائے اور اس نیت سے ہر قربانی سلسلہ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے کا موجب ثابت ہوتی رہے۔اندریں حالات ہمارا فرض ہے کہ ہم ان قربانیوں کے لئے ہر وقت تیار رہیں تا وقت آنے پر ہم پیچھے رہنے والوں میں شمار نہ ہوں بلکہ اس طرح اپنی جانیں پیش کرتے چلے جائیں جس طرح ایک پروانہ دیوانہ وار است