حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 288
273 کھیل کر اسے پورا کرتا۔میں نے یہ چکر جیپ پر لگایا تھا۔" غیر معمولی جرات۔جس شجاعت اور مردانگی سے آپ نے تقسیم ملک کے وقت اپنے مفوضہ کام سر انجام دیئے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جب مسجد اقصیٰ کے اوپر گولیاں برس رہی تھیں۔آپ مردانہ وار کھلی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے۔حتیٰ کہ ایک گولی آپ کو لگنے ہی لگی تھی کہ چوہدری ظہور احمد صاحب مرحوم سابق سیکرٹری صد سالہ جوبلی احمد نیہ منصوبہ نے آپ کو دھکا دے کر گرا دیا اور گولی آپ کو چھوئے بغیر اوپر سے گزر گئی۔خلافت کے دوران آپ نے ایک مرتبہ فرمایا:۔امریکہ سے مجھے ایک شخص نے خط لکھا جس میں اس قسم کی بات تھی کہ آپ کی جان پر اس طرح حملے ہوں گے اور یہ ہو گا اور وہ ہو گا۔میری عادت یہی ہے کہ میں ایسے موقع پر کہا کرتا ہوں کہ جب تک خدا مجھے زندہ رکھتا ہے اس وقت تک کسی بات کا ڈر نہیں۔میں تو ۱۹۴۷ء میں گولیوں کے اندر پھرتا رہا ہوں جیپ لے کر مسلمانوں کو بچانے کے لئے۔پس زندگی اور موت تو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔پاکستان میں خدام الاحمدیہ کی سرگرمیوں کا احیاء تقسیم ہند سے قبل صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی صدارت میں خدام الاحمدیہ کا آخری اجتماع ۱۸-۱۹ - ۲۰۔اکتوبر ۱۹۴۶ء کو منعقد ہوا تھا اس کے جلد ہی بعد آپ کو خلیفہ وقت نے تقسیم ملک کی وجہ سے ہنگامی نوعیت کے کاموں پر لگا دیا۔قیام پاکستان کے بعد ذیلی تنظیموں میں سے سب سے پہلے مجلس خدام الاحمدیہ نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کیا۔۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء (مطابق ۱۶ نبوت (۱۳۲۶ ہش کو آپ قادیان سے لاہور تشریف لائے اور مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیم نو کے لئے خدام الاحمدیہ کے نام ایک پیغام جاری فرمایا جو