حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 282
267 سامان لے جانے کی اجازت نہ دی جاتی۔آج اس بات کو ۳۵ سال ہو گئے ہیں اور میں اب بھی وہ حالت چشم تصور میں دیکھ رہا ہوں۔وہ ایک قسم کا حشر تھا۔ٹرک آتے اور جاتے اور قادیان خالی ہوتا جاتا اور بھائی مستعدی سے اپنے ساتھیوں کے ذریعہ کام کرتے رہتے۔آخر وہ دن بھی آیا جب وہاں سے آخری قافلہ چلا۔میں نے چونکہ درویش کی حیثیت سے پیچھے رہنا تھا اس لئے اس قافلہ کو الوداع کہنے کے لئے گیا۔مجھے حضرت مصلح موعود نے ناظر اعلیٰ بھی بنا دیا تھا اور مجھے ان سبہ نوجوانوں سے تعارف ہو چکا تھا جنہوں نے بھائی کے ساتھ کام کیا تھا۔جو چند ان میں سے پیچھے رہ گئے تھے مجھے ان کی قدر اس وقت محسوس ہوئی جب میں نے ان سے کام لیا۔وہ سخت ہنگامی حالات تھے۔سارا ملک ہمارے خلاف تھا۔حکومت ہند بھی چاہتی تھی کہ ہم قادیان سے چلے جاویں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا۔بھائی کے جانے کے بعد بعض غیر مسلم بھی میرے پاس آئے اور بتایا کہ ان کے اوپر حضرت مصلح موعود یا بھائی کے بہت احسان ہیں اس لئے جو بھی خدمت ہو وہ سر انجام دیں گے۔ول حفاظت مرکز کے سلسلہ میں آپ کا ساتھیوں کے ساتھ جو مشفقانہ سلوک تھا اس کا اندازہ ریٹائرڈ صوبیدار عبدالمنان صاحب سابق افسر حفاظت خاص کے اس واقعہ سے ہوتا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔” ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا۔قادیان سے تقریباً سات میل کے فاصلے پر مسلمانوں کا گاؤں سٹھیالی واقع تھا جو چاروں طرف سے سکھوں سے گھرا ہوا تھا۔اس کی حفاظت کے لئے مجھے چند مجاہدین کے ہمراہ قادیان سے بھیجا گیا۔گردو نواح کے دیہات کے مسلمان باشندے سکھوں کے مظالم سے تنگ آکر اس گاؤں میں جمع ہو گئے تھے۔جب اس گاؤں پر سکھوں نے حملہ کیا تو راقم الحروف مقابلہ کرتا ہوا شدید زخمی ہوا اور