حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 283
268 سکھوں کے پسپا ہونے کے بعد قادیان واپس آگیا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو علم ہوا تو آپ اس وقت میرے پاس تشریف لائے اور میری حالت دیکھ کر فوراً صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کو بلوا کر میری مرہم پٹی کروائی۔میرا جسم اکڑ چکا تھا یہاں تک کہ ہاتھ ہلانا دشوار تھا۔مجھے شدید پیاس لگ رہی تھی۔میں نے پانی مانگا تو حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے اپنی صراحی سے گلاس بھرا اور پھر میرے پیچھے کھڑے ہو کر گلاس میرے منہ کو لگا کر پانی پلایا۔اس وقت رات کے ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔مجھے سخت نیند آ رہی تھی۔میں سات میل پیدل چل کر آیا تھا اور سخت تھکا ہوا تھا۔قریب ہی حضرت میاں صاحب کا بستر بچھا ہوا تھا حضرت میاں صاحب نے فرمایا۔صوبیدار صاحب ! آپ اس بستر پر لیٹ جائیں۔میں نے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا؟ اور آپ؟ فرمانے لگے۔میری فکر نہ کریں۔آپ لیٹ جائیں اور مجھے لٹا دیا اور یوں اپنا آرام تیج کر ہر ممکن طور پر مجھے آرام پہنچایا۔جتنے دن تک میرا علاج جاری رہا آپ بذات خود اور بنفس نفیس نگرانی فرماتے رہے۔آپ کی ذات سے مجھے اتنا آرام و سکون ملا کہ آج تک میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔میں آپ کا یہ حسن سلوک کبھی بھلا نہیں سکتا۔۲۰ اس عرصہ کے دوران حضرت مصلح موعود کی قیمتی ہدایات اور خطوط آپ کو پہنچتے رہے جس پر آپ بدل و جان عمل کرتے رہے۔ایک خط میں حضور نے لکھا۔مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اپنے حوصلے کو بلند رکھو۔اگر دین کی اشاعت کا خیال نہ ہوتا اور مجھ سے اشاعت اسلام کا کام وابستہ ہوتا تو میں تم لوگوں کو باہر بھجوا دیتا اور آپ تم لوگوں کی جگہ وہاں کام کرتا۔کربلا کا واقعہ یاد رکھو۔اور سب دوستوں کو یاد کراؤ۔کس طرح رسول کریم میں اللہ کے سب خاندان نے بھوکے پیاسے رہ کر ثابت "