حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 281
266 " آپ دس سال سے زیادہ عرصہ تک خدام الاحمدیہ کے صدر بھی رہے۔اس میں ہر وہ ٹریننگ تھی جو کہ ایک نوجوان احمدی کو ملنی چاہئے اور بھائی نے ہر وہ خدمت سر انجام دی جو کہ سلسلہ احمدیہ ان سے مانگتا تھا۔۔۔عمر کے ساتھ بھائی کے دائرہ کار میں بھی وسعت ہو گئی۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے بہت سے ضروری کام ان کے سپرد کر دیئے اور حضور کی ہدایت کے مطابق ایک ایسی ٹیم بن گئی جو کہ ہر قسم کے ہنگامی حالات کا مقابلہ کر سکتی تھی۔چنانچہ تقسیم ملک کے وقت حضرت مصلح موعود کی دور اندیشی اور بھائی کی ایسی تربیت جو کہ ہر قسم کے حالات کو سنبھال سکتی تھی، کام آئی۔آخری وقت تک یہی خیال تھا کہ قادیان پاکستان کے حصہ میں آئے گا مگر جب ریڈ کلف ایوارڈ سنایا گیا تو قادیان ہندوستان میں شامل کیا گیا۔یہ ایوارڈ احمدیوں کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی جس پر جماعت احمد یہ اللہ کے فضل سے پوری اتری اور بڑے سخت حالات اور فساد کی کیفیت کے باوجود احمدی بچوں اور عورتوں کو بچانے کے پروگرام میں لگ گئی۔یہی جماعت احمدیہ کی زندگی کا نشان تھا۔بھائی اس کام میں پیش پیش تھے۔اس وقت میں قادیان میں تھا۔حالات کے مد نظر حضرت مصلح موعود کا پاکستان جا کر انتظامات کرنا۔اور جماعت کو سنبھالنا ضروری تھا۔چنانچہ حضور لاہور آ گئے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، بھائی اور خاندان حضرت اقدس۔۔۔۔کے افراد اور باقی جماعت کا نوجوان طبقہ رہ گیا۔حضور کی ہدایت یہ تھی کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو پہلے پاکستان بھیجا جاوے۔یہ کام اس وقت کے مشکل حالات میں بھی حضور کی خواہش کے مطابق سر انجام دیا گیا۔مجھے اس وقت یہ کام دیا گیا تھا کہ کوئی نوجوان مرد بغیر نظام کی اجازت کے پاکستان نہ جاوے اور نہ ہی کوئی ضرورت سے زیادہ سامان لے کر جاوے۔چنانچہ جب کسی کا ذاتی ٹرک بھی ہوتا تو اس کو زائد