حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 280 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 280

265 ہمیں کہتا ہے کہ آگے تقسیم کرتے چلے جاؤ۔" کل ان واقعات کا ذکر ایک خاتون نے آپ کی وفات کے موقع پر کیا۔مکرم ہدایت اللہ صاحب کارکن ضیاء الاسلام پریس ربوہ کی اہلیہ جو ان عورتوں میں شامل تھیں لکھتی ہیں:۔" یہ واقعہ ۱۹۴۷ء کا ہے کہ ہم کئی عورتیں حویلی مرزا سلطان احمد صاحب میں محصور تھیں۔پردہ کا کوئی خیال نہیں تھا۔بہت سی عورتیں دیہات کی تھیں۔بعض بالکل بوسیدہ کپڑوں میں تھیں۔میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب آئے اور ایک چیز پر دو تین بڑے بڑے لوہے کے سیاہ رنگ کے ٹرنک رکھ دیئے اور قفل توڑ کر سب عورتوں میں نہایت قیمتی اور گوٹے والے کپڑے تقسیم کرنے لگ پڑے۔میں بھی پاس ہی گھونگٹ نکالے بیٹھی ہوئی تھی۔ایک عورت نے مجھ کو کہا تم بھی میاں صاحب سے کپڑے لے لو چنانچہ مجھ کو ایک ساڑھی اور ایک تکیہ کا غلاف جو سرخ رنگ تھا، حاشیہ زرد رنگ کا تھا اور بچے گوٹے کا کام کیا ہوا ملا۔ساڑھی کو تو میں دوپٹہ بنا کر اپنے استعمال میں لے آئی تکیہ کا غلاف میں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے لئے رکھ لیا کیونکہ اس پر گوٹے کے کام کے نہایت نفیس پھول بنے ہوئے تھے۔۱۸ غرض تقسیم ہندوستان کے وقت مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر عموماً اور احمدیوں پر خصوصاً مشکل ترین حالات میں آپ نے جس طرح دن رات ایک کر کے مرکز قادیان اور اس کے ماحول کی حفاظت فرمائی اور ہزاروں مسلمان مہاجرین کے قیام و طعام کا انتظام فرمایا۔انہیں ہندوؤں اور سکھوں کے حملوں سے بچایا اور نہایت خطرناک حالات میں عورتوں، بچوں اور ضعیف لوگوں کو بحفاظت پاکستان پہنچاپا وہ کار ہائے نمایاں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب حفاظت مرکز کے لئے آپ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے اثر و رسوخ کے متعلق لکھتے ہیں۔