حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 11
11۔۷۶ نومبر۷ ۱۹۰ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا:۔سَاهَبُ لَكَ غُلَامًا زَكِيَّا - رَبِّ هَبْ لِى ذُرِّيَةٌ طَيِّبَةً - إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اِسْمُهُ يَحْيَى ترجمہ: میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوش خبری دیتا ہوں۔اے میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش دے۔میں تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتا ہوں جس کا نام یحیی ہے (معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ رہنے والا)۔۱۳ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس رضی اللہ فرماتے ہیں۔وو اليام الہی میں مبشر بہ پوتے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کا پانچواں بیٹا قرار دیا گیا ہے اور پوتے کے لئے بیٹے کا لفظ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت میم نے غزوہ حنین کے a دن فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا بُنُ عَبْدِ الْمُطَلِبُ یعنی میں نبی ہوں اور یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔پس پوتے کے لئے بیٹے کا لفظ بکثرت ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے۔اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت ام المومنین ہونا نے اپنے تمام پوتوں میں سے صرف حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ له تعالی کو ہی اپنے بیٹوں کی طرح پالا اور ان کی تربیت فرمائی۔۱۴ آپ کے بارے میں حضرت مصلح موعود میں اللہ کو بھی بشارات دی گئیں۔چنانچہ آپ کی پیدائش سے دو ماہ قبل ۲۶ ستمبر ۱۹۰۹ء کو حضرت مصلح موعود نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا :- " مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہو گا۔"" یہاں پر حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی للہ کا ایک واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔